تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 355
میں آئے ہیں کیونکہ گورنمنٹ نے ہمیں بھیجاہے۔ہم شرمندہ بھی ہیں مگر کیاکریں گورنمنٹ نے یہ نازک ذمہ داری ہمارے سپرد کردی ہے اور اب ہم مجبور ہیں کہ اسی طرح کریں۔ایک دفعہ ایک افسر نے جب اسی قسم کے الفاظ میں معذرت کی تو میں نے اسے کہا کہ بتائیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی برکت والی تھی یا نہیں ؟اس نے کہا کیوں نہیں وہ بڑی برکت والی تھی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں میں تھی میں نے کہا اب بتایئے کیا ابوجہل کی جوتی منحوس تھی یا نہیں ؟اس نے کہا یقیناً منحوس تھی کیونکہ وہ ابوجہل کے پائوں میں تھی۔میں نے کہا اس جوتی کی اس میں کیا خوبی تھی جو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں میں تھی اور اس جوتی کا اس میں کیا قصور تھا جو ابوجہل کے پائوں میں تھی کہ ایک جوتی کو ہم نے برکت والی بنادیا اور دوسری جوتی کو ہم نے منحوس کہہ دیا ؟ میں نے کہا بغیر کسی ارادہ کے بھی اگر کسی اچھے آدمی کا انسان ہتھیار بن جائے تواچھا ہو جاتا ہے اور کسی برے آدمی کا ہتھیاربن جائے تو برا ہو جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا الہام جب اس پہاڑ پر نازل ہوا تو وہ پہاڑ بھی بابرکت ہوگیاجیسے خانہ کعبہ میںکیا خصوصیت ہے کہ اسے برکت والا کہا جاتاہے خانہ کعبہ میںیہی خصوصیت ہے کہ وہاں اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوا اور خدا تعالیٰ کے نبیوں نے وہاں عبادتیں کیں اور دعائیں کیں اور ان پر اس کے انعامات نازل ہوئے اسی طرح جس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ کی برکت نازل ہوجائے وہ برکت ہمیشہ کے لئے چلتی چلی جاتی ہے۔بلکہ جیسا کہ میں ایک دفعہ بتاچکا ہوں انسان کی برکت بدل سکتی ہے کیونکہ انسان جب نیکی کا رستہ ترک کرکے گنہگار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی برکت اٹھ جاتی ہے لیکن بے جان چیز چونکہ گناہ نہیں کرتی اس لئے جب وہ ایک دفعہ بابرکت ہو جاتی ہے تو ہمیشہ کے لئے مبارک رہتی ہے اور کبھی بھی اس کی برکت اس سے جدانہیں ہوتی ضمنی طور پر اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیاگیاہے کہ طور کی وحی موسیٰ اور اس کی قوم کے لئے بڑی مبارک تھی۔نَجِيًّاًکے تین معنے ہوتے ہیں۔اوّل جس سے مخفی بات کی جائے۔دوم جس سے بات کی جائے۔سوم نَجِيًّا کے ایک معنے السَّرِیْعُ کے بھی ہیں النَّاقَۃُ النَّجِیَّةُ تیز چلنے والی اونٹنی کو کہتے ہیں۔(اقرب) یہ تینوں معنے اس آیت پر چسپاں ہوجاتے ہیں یعنی (۱) ہم نے اس کو قریب کیا اس کے ساتھ اسرار کی بات کرتے ہوئے۔یعنی علوم روحانیہ اور عرفانیہ اس پر ظاہر کئے شریعت چونکہ لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل کی جاتی ہے اس لئے اگر اس کے معنے مخفی بات کے کئے جائیں گے توتورات مراد نہیں ہوگی کیونکہ وہ کوئی مخفی چیز نہیں تھی بلکہ وہ