تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 336

طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔کیونکہ دنیا میں کچھ نہ کچھ کام اتفاقی بھی ہوا کرتے ہیں۔يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ قَدْ جَآءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِيْۤ اے میرے باپ مجھے ایک خاص علم عطا کیا گیا ہے جو تجھے نہیں ملا پس (باوجود اس کے کہ میں تیرا بیٹاہوں ) تومیری اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا۰۰۴۴ اتباع کر میں تجھے سیدھا راستہ دکھائوں گا۔حل لغات۔سَوِیًّا کے معنے الْاِسْتِوَاءُ وَالْاِنْصَافُ کے بھی ہیں یعنی کسی چیز کا توازن ٹھیک ہونا۔اور اس کے معنے مستوی کے بھی ہیں یعنی جس میں کسی قسم کی کجی نہ ہو۔تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ مجھے یقیناًخدا تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کاعلم ملا ہے جو تجھ کو نہیں ملا پس تو میری اتباع کر میں تجھے ایک ایسا رستہ دکھائوں گا جس میں نہ زیادتی پائی جاتی ہے نہ کمی۔نہ افراط ہے نہ تفریط۔میں سمجھتاہوں سب سے بڑا ابتلا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے یہی تھا کہ باپ کہہ لو یا چچا کہہ لو جو بھی وجود تھا بہرحال وہ ان کے پالنے والا تھا اسے جا کر آپ کو یہ کہنا پڑا کہ يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ قَدْ جَآءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ اور دعویٰ کرنا پڑا کہ مجھے وہ علم حاصل ہے جو آپ کو حاصل نہیں اپنے بڑوں کے سامنے بات کرنی بڑی دوبھر ہوتی ہے پس میرے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بہت بڑے ابتلائوں میں سے ایک ابتلا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے زمانہ میں مبعوث کیا جب ان کو پالنے والا یا جننے والا باپ موجود تھا او راسے بتانا پڑا کہ تمہاری غلطی ہے اور کہنا پڑا کہ فَاتَّبِعْنِيْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا۔آج سے میں تمہارا روحانی باپ ہوں اور تم میری روحانی اولاد ہو۔بچے تو بعض دفعہ بیوقوفی سے ایسی بات کہہ دیتے ہیں چنانچہ میرے نواسے کبھی میرے پاس آجائیں تو میں پیار سے اپنی لڑکی کو پکڑ کر ان سے کہتا ہوں یہ میری بیٹی ہے اس پر وہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی کہہ دیتے ہیں یہ میری بیٹی ہے پس بچے تو بعض دفعہ بیوقوفی سے ایسی بات کہہ دیتے ہیں لیکن ایک جوان اور بالغ مرد کا جاکر کہنا کہ والد صاحب آج سے آپ والد نہیں رہے ہیں میں آپ کا والدبن گیا ہوں آپ کی تربیت کا وقت گذرچکا اب میں آپ کی غلطیا ں نکالوں گاآپ میری غلطیاں نہیں نکال سکتے۔یہ زبان سے کہنا بڑامشکل کام ہے۔