تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 29
اور روح القدس خدا نہیں کر سکتا یا روح القدس خدا کر سکتا ہے اور باپ خدا نہیں کر سکتا یا بیٹا خدا کر سکتا ہے او رباپ خدا نہیں کر سکتا؟ کہنے لگا کوئی نہیں۔میںنے کہا پھر جھگڑا کیا ہے اگر دو خدا فارغ بیٹھے رہتے ہیں تو یہ بڑی مصیبت ہے کہ وہ کام تو کر سکتے ہیں مگر فارغ بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہیں اور اگر ایک کام کو تینوں مل کر کرتے ہیں حالانکہ ان تینوں میں سے ہر ایک اکیلا اکیلا بھی وہ کام کر سکتا ہے تو یہ جنون کی علامت ہے اس پر وہ گھبرا کر کہنے لگا کہ عیسائیت کی اصل بنیاد کفارہ کے مسئلہ پر ہے تثلیث کا مسئلہ تو ایمان کے بعد سمجھ میں آتا ہے میں نے کہا کہ جب تک تثلیث سمجھ میں نہ آئے انسان ایمان نہیں لا سکتا اور جب تک ایمان نہ لائے تثلیث سمجھ میں نہیں آ سکتی تو یہ تو دور تسلسل ہو گیا جس کو تمام منطقی ناممکن قرار دیتے ہیں۔اس پر وہ کہنے لگا کہ آپ مجھے معاف کریں کفارے پر بات کریں۔پس درحقیقت کفارہ تعلق رکھتا ہے تثلیث کے ساتھ اگر کفارہ باطل ہو جائے تو تثلیث خود بخود باطل ہو جاتی ہے اور چونکہ یہ عقیدہ صریح مشرکانہ ہے اس لئے اس جگہ عالم کی صفت کی طرف خصوصیت سے اشارہ کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں اس بات پر بڑی بحث کی ہے کہ جس چیز کا انسان عالم کامل ہو اسے وہ بنا بھی سکتا ہے(سرمہ چشمہ آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۲۶)۔مثلاً انسان کو علم ہے کہ اینٹیں جوڑنے سے مکان بن جاتا ہے تو اس علم کے نتیجہ میں وہ مکان بنا لیتا ہے یاا سے علم ہے کہ مٹی گھول کر لکڑی کے سانچوں میں ڈھالو توکچی اینٹ بن جاتی ہے اور پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے تو پختہ ہو جاتی ہے تو اس علم کے نتیجہ میں وہ پختہ اینٹ بنا لیتا ہے اسی طرح اگر کسی کو یہ پتہ لگ جائے کہ مٹی کس طرح بنتی ہے تو مٹی بھی بنا سکتا ہے۔غرض خلق علم کے تابع ہے جب کسی چیز کا کامل علم حاصل ہو جائے تو اسے انسان بھی بنا سکتا ہے۔اگر کسی کو گھڑی بنانے کا پورا علم حاصل ہو جائے تو وہ گھڑی بنا لے گا۔جسے افعال الاعضاء کا پور اعلم حاصل ہو جائے وہ ڈاکٹر بن جائے گا۔غرض کسی چیز کا علم کامل خلق پر قدرت دے دیتا ہے اور جب کوئی ہستی کامل علم والی ہو تو لازماً اس کے یہ معنے ہوںگے کہ وہ کامل خلق بھی کر سکتی ہے اور کامل تدبیر بھی کر سکتی ہے اور یہ کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور مدبر کی ضرورت نہیں۔جیسے فرگوسن کے سامنے میں نے یہی دلیل پیش کی کہ جب تینوں خدا کامل ہیں تو پھر ایک کی موجودگی میں باقیوں کی کیا ضرورت ہے خدا باپ کو لے لو۔خدا بیٹے کو لے لو۔خدا روح القدس کو لے لو۔جب باپ خدا بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جو بیٹا خدا کر سکتا ہے اور بیٹا خدا بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جو روح القدس خدا کر سکتا ہے تو پھر ایک خدا ہی کافی ہے باقی دو کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کاف میں صفت کافی کی طرف اشارہ کر کے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافی ہے بندوں کی پیدائش کے لئےبھی اور ان کے نظام کےلئے بھی اور ان کی تدبیر کےلئے بھی اس میںنہ کسی کفارہ کی ضرورت ہے اور نہ بیٹے