تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 314

انہیں پتہ تو لگ جائے گا کہ جو کچھ وہ مان رہے تھے وہ بالکل غلط تھا مگر اس وقت وہی چیز انسان کے کام آسکتی ہے جس کو پہلے مانتاہو۔وہ عقیدہ کام نہیں آسکتا جو اس روز انسان پر روشن ہوا ہو۔ایک عیسائی جسے خدائے واحد نظر آجائے گا اس کے دیکھنے سے وہ شرک سے پاک نہیں ہوجائے گا اگر وہ پاک ہو جاتا تو دوزخ میں کیوں جاتاپس اس کے یہ معنے نہیں۔کہ اس دن ان کو گمراہی ملے گی بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اس دن اُن کو گمراہی کا علم حاصل ہوگا۔وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِيْ اور اُن کو اس دن سے ڈرا جس دن (افسوس اور )مایوسی چھائی ہوئی ہوگی (یعنی قیامت کے دن سے ) جب سب غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۴۰ معاملات کا فیصلہ ہوجائےگا اور (اب تو )یہ لوگ غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔تفسیر۔’’حسرت کادن ‘‘اس لئے کہا کہ اس روز حقیقت کھل جائے گی مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہوگا اور سامنے کچھ اور نظر آرہا ہوگا اس لئے انہیںاپنے عقائد کی غلطی معلوم کر کے افسوس ہوگا اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ جس دن حقیقت کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا یا جس دن امر الٰہی کا اعلان کر دیا جائے گا اور یہ فیصلہ اور امر الٰہی کا اعلان سچائی کی تائید میں ہوگا جھو ٹ کی تائید میں نہیں۔پس جب اعلان ہوگا تو ان کے دلوں میں حسرت ہوگی کہ کاش ہم اس سے پہلے ایمان لا چکے ہوتے۔وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ مگر تمام حقائق کو سمجھ لینے کے باوجود پھر بھی وہ غفلت میں مبتلا رہیں گے اور ایمان لانے کے لئے اپنے قدم نہیں بڑھائیں گے۔یہاں سے یہ ایک عجیب حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ صداقت کو دیکھ کر بھی دل کبھی یکدم نہیں بدلا کرتے۔اَسْمِعْ وَ اَبْصِرْمیں بتایا تھا کہ وہ دیکھ بھی رہے ہوں گے اور وہ سن بھی رہے ہوں گے اور پھر يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا وہ ہمارے پاس بھی پہنچ چکے ہوںگے اور قُضِيَ الْاَمْرُفیصلہ بھی ہو جائے گالیکن وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ پھر بھی بوجہ سابق کفر اور بداعمالیوں کے ان کا دل اتنا ملوث ہوگا کہ حقیقت کو دیکھنے کے باوجود اس کے اندر صفائی پیدا نہیں ہوگی اور وہ دوزخ میں داخل کئے جائیں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ حقیقت کھل جانے کے بعد بھی بوجہ اپنی پرانی عادت کے انسان اپنے طریق کو نہیں چھوڑ سکتا اور پھر بھی اسے تاریکی اور ظلمت ہی پسند آتی ہے چنانچہ دیکھ لو ہر قسم کے نشانات دیکھنے کے باوجود کفار پھر بھی اعراض ہی کرتے رہتے ہیں ان کے دلوں میں اتنی صفائی پیدا نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ کا نو ر ان