تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 303

’’ سن لے اے اسرائیل خداوند ہمار ا خدا اکیلا خداوند ہے۔‘‘ ’’اکیلاخداوند‘‘ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ہے اور جب وہ وحدہ لاشریک ہوا تو یہ بات بھی سچی ثابت ہوئی کہ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ پھر یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۸ میں ہے ’’یہوا میں ہوں یہ میرا نام ہے اور اپنی شوکت دوسرے کو نہ دوں گا۔‘‘ اپنی شوکت دوسرے کو نہ دوں گا یہ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ پر دلالت کرتا ہے۔یعنی نہ صرف یہ کہ میرا بیٹا نہیں بلکہ میں کسی کو اپنا بیٹا بنائوں گا بھی نہیں۔گویا تم اگر یہ کہو کہ میں نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے اور اپنی طاقتیں اس کو دے دی ہیں تو یہ بھی غلط ہو گا۔میں اپنی صفات کسی اور کو نہیں دیتا۔اب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں جس پر مسیح ؑ کے ابن اللہ ہونے کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو اس میں بھی ہمیں یہی تعلیم نظر آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔چنانچہ مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹ میں لکھا ہے کہ ایک شخص حضرت مسیح کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آپ مجھے وہ سب سے بڑا حکم بتائیں جس پر عمل کرنا میرے لئے سب سے زیادہ ضروری ہو۔حضرت مسیح نے اسے فرمایا ’’سب حکموں میں اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن وہ خدا وند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خدا وند ہے‘‘۔(انجیل مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹) پھر مسیح کے حواریوں نے جو خطوط لکھے ہیں ان میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے۔چنانچہ رومیوں میں لکھا ہے ’’اسی واحد دانا خدا کو یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ حمد پہنچا کرے۔‘‘ (رومیوں باب ۱۶ آیت ۲۷) گویا مسیح کا ذکر کرکے اس کے مقابلہ میں ایک خدا کو پیش کیا گیا ہے اور کہا گیاہے کہ اسی واحد دانا یعنی علیم خدا کو یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ حمد پہنچا کرے۔پھر ایک حواری کہتا ہے ’’لیکن مجھ پر اس لئے رحم ہوا کر یسوع مسیح مجھ بڑے گنہگار پر کمال صبر ظاہر کرے تاکہ میں ان کے واسطے جو اس پر ہمیشہ کی زندگی کے لئے ایمان لاویں گے نمونہ بنوں۔اب انسانی بادشاہ۔غیر فانی۔نادیدنی۔واحد حکیم خدا کی عزت اور جلال ابدالاباد ہو وے۔‘‘ (۱۔تمطائوس باب۱ آیت ۱۶و۱۷)