تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 268
ہے اور طبیعت سخت کوفت محسوس کرتی ہے لیکن حساب نہ کروں تو سب کام خود بخود ہو جاتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ نے سلوک کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی حدیثوں میں اسی قسم کے کئی واقعات آتے ہیں۔پھر متی باب ۲۶ آیت ۲۶ تا ۲۸ میں بھی یہی لکھا ہے کہ ’’ ان کے کھاتے وقت یسوع نے روٹی لی اور برکت مانگ کے توڑی پھر شاگردوں کو دے کر کہا لو کھائو یہ میرا بدن ہے پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور انہیں دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو کیونکہ یہ میرا لہو ہے یعنی نئے عہد کا لہو جو بہتوں کے گناہوں کی معافی کے لئے بہایا جاتا۔‘‘ یہاں بھی یہی ذکر ہے کہ مسیح نے برکت مانگ کر روٹی توڑی اور شاگردوں سے کہا کہ کھائو یہ میرا بدن ہے اور پانی دے کر کہا کہ پیئو یہ میرا خون ہے عیسائیوں میں عشاء ربانی کی جو عبادت پائی جاتی ہے اس کی بنیاداسی واقعہ پر ہے۔اسی طرح لوقا باب ۱ آیت ۴۱۔۴۲ میں لکھا ہے کہ جب مریم حاملہ ہوئیں اور یحییٰ کی ماں سے ملنےکے لئے گئیں تو اس نے حضرت مریم سے کہا کہ ’’ تو عورتوں میں مبارک ہےاور تیرے پیٹ کا پھل مبارک ہے۔‘‘ گویا اس جگہ وہی مضمون ہے جو جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔پھر لوقاباب ۱۱ آیت ۲۷۔۲۸ میں لکھا ہے۔’’جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو ایسا ہوا کہ بھیڑ میں سے ایک عورت نے پکار کر اس سے کہا مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو رہا اور وہ چھا تیاں جو تو نے چوسیں اس نے کہا ہاں مگر زیادہ مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اسے مانتے ہیں۔‘‘ غرض جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا کے ثبوت میں انسانوں کی شہادتیں بھی انجیل میں موجود ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی شہادتیں بھی انجیل میں موجود ہیں۔پانچویں بات قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے کہا وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ خد اتعالیٰ نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے یہ بھی انسان ہی کی صفت ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کو کوئی حکم دینے والا نہیں ہوتا اور پھر اس کے لئے نماز کا بھی کوئی سوال نہیں۔اس کے لئے دیکھو لوقاباب ۹ آیت ۱۸ جہاں لکھا ہے۔