تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 259

’’خداوند خدا کی روح مجھ پر ہے کیونکہ خداوند نے مجھے مسح کیا تاکہ میں مصیبت زدوں کو خوشخبریاں دوں (یسعیاہ کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے مسح کیا ہے تاکہ میں مصیبت زدوں کو خوشخبری سنائوں۔مگر عیسائی کہتے ہیں کہ اس میں مسیح کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے) اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں ٹوٹے دلوں کو درست کر وں اور قیدیوں کےلئے چھوٹنے اور بندھوئوں کے لئے قید سے نکالنے کی منادی کروں کہ خداوند کے سال مقبول کا اور ہمارے خدا کے انتقام کے روز کا اشتہار دوں اور ان سب کو جو غمزدہ ہیں تسلی بخشوں کہ صیہوں کے غمزدوں کےلئے ٹھکانہ کردوں کہ ان کو راکھ کے بدلے پگڑی اور نوحے کی جگہ خوشی کا روغن اور اداسی کے بدلے ستائش کی خلعت بخشوں تاکہ وے صداقت کے درخت اور خداوند کے لگائے ہوئے پودے کہلاویں کہ اس کا جلال ظاہر ہووے۔‘‘ (یسعیاہ ب ۶۱ آیت ۱تا ۳) عیسائیوں کے نزدیک یسعیاہ نبی کی یہ پیشگوئی حضرت مسیح پر چسپا ںہوتی ہے۔اگر یہ درست ہے اور یہ پیشگوئی واقعہ میں حضرت مسیح پر چسپاں ہوتی ہے تو پھر یہاں خدا کا ذکر نہیں بلکہ ایک انسان کے آنے کا ذکر ہے اور وہ جَعَلَنِيْ نَبِيًّاکے ماتحت ہی آتا ہے کیونکہ لکھا ہے۔’’ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں ٹوٹے دلوں کو درست کروں اور قیدیوں کےلئے چھوٹنے اور بندھوئوں کےلئے قید سے نکالنے کی منادی کروں۔‘‘ ’’ اس نے مجھے بھیجا ہے ‘‘ کا عربی میں یہی ترجمہ ہوگا کہ اَرْسَلَنِیْ اس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔یا جَعَلَنِيْ نَبِيًّا اس نے مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔یہ بھی یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کے الفاظ مصلح موعود والی پیشگوئی کے الفاظ سے بالکل ملتے جلتے ہیں۔یعنی اس پیشگوئی میں بھی اسی قسم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس قسم کے الفاظ یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی میں استعمال کئے گئے ہیں۔پھر متی باب ۲۱ آیت ۱۰و۱۱ میں لکھا ہے۔’’ اور جب وہ یروشلم میں داخل ہوا تو سارے شہر میں ہلچل پڑ گئی اور لوگ کہنے لگے یہ کون ہے۔بھیڑ کے لوگوں نے کہا یہ گلیل کے ناصرہ کا نبی یسوع ہے۔‘‘ یہی بات قرآن کریم نے بیان کی ہے کہ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے خدا نے نبی بنا کر بھیجا ہے۔