تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 245
نہیں۔وہ حیران ہوا اور اُس نے پوچھا کہ لڑکے تمہاری عمر کتنی ہے۔اُس نے کہا عمر کا تو مجھے علم نہیں مگر جس سال قاضی کے پیٹ سے بچہ پیداہوا تھا اُسی سال میں پیداہو ا تھا۔ایسا ہی لطیفہ اس جگہ گزرا حضرت مریم تو بھاگیں مگر وہ رشتہ دار جو اُن کے’’ شریک‘‘ تھے انہوں نے اس واقعہ کو یاد رکھا اور جب آپ واپس پہنچیں اور انہوں نے دیکھا کہ وہی بچہ آگیا ہے جس کی خبر مشہور ہوئی تھی تو انہوں نے حضرت مریم کو طعنہ دیا۔فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ اُن کے طعنہ پر حضرت مریم شرما گئیں اور انہوں نے حضرت مسیح کی طرف اشارہ کردیا مگر وہ بچہ اب جوان ہوکر خدا تعالیٰ کا نبی بن چکا تھا۔اُس نے کہاتم کیا بکواس کرتے ہو اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا میں خدا تعالیٰ کی صفا ت کو دنیا میں ظاہر کرنے والا ہو ں۔میں خدا تعالیٰ کے اخلاق کو دنیا میں قائم کرنے والا ہوں۔خدا نے مجھے کتاب دی ہے اور خدا نے مجھے نبی بنا یا ہے کیا ایسی اولاد حرام کی اولاد ہوسکتی ہے وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ اور اُس نے مجھے مبارک بنایا ہے جہاں کہیںبھی میں ہو ں وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِاور خدا نے مجھے نماز کا اور زکوۃ کا حکم دیا ہے مَا دُمْتُ حَيًّا جب تک کہ میں زندہ رہوں۔اگر یہ دُودھ پیتے زمانہ کا معجزہ تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دُودھ پیتے وقت چلتے پھرتے بھی تھے اور نماز یں بھی پڑھتے تھے اور زکوٰتیں بھی دیتے تھے حالانکہ اس بات کونہ غیر احمدی مانتے ہیں اور نہ عیسائی مانتے ہیں۔اگر کہو کہ یہ آئندہ کی پیشگوئیاں تھیں تو سوال یہ ہے کہ وہ بولا تو اس لئے تھا کہ لوگ ایمان لاتے مگر اس سے تو اُن کے ایمان اور بھی خطرہ میں پڑگئے ہوںگے کہ یہ کیسا جھوٹا ہے کہتا کیاہے اور اس کی حالت کیا ہے جب اس نے کہاہوگا کہ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ مجھے اُس نے کتاب دی ہے تو وہ کہتے ہوں گے صریح جھوٹ ہے دکھائو کتا ب کہاں ہے اور پھر اگر اُس نے کتاب دے دی تھی تو اس کے اوّل منکر خود مسیح ؑ ہوئے کیونکہ اُس پر عمل نہیں کیا۔اِسی طرح جب انہوں نے کہا ہو گا کہ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا اس نے مجھے نبی بنایا ہے تو وہ کہتے ہوں گے کیسا جھوٹا ہے۔تجھے نبی بنایاہے تُوتو ابھی ما ں کا پستان چوس رہاہے۔جب کہا ہو گا کہ وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ تو وہ کہتے ہوں کہ خوب !ماں کی گود سے تو اُتر نہیں سکتا اور کہتا یہ ہے کہ میں جہاں کہیں جائوں خدا نے مجھے برکت والا بنایا ہے۔جب کہا ہوگا وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مجھے اس نے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیاہے تو انہوں نے کہا ہوگا اچھا فرمائیے آپ نے کتنی نمازیں پڑھی ہیںاور پھر دھیلہ آپ کی جیب میں نہیں اور کہتے یہ ہیں کہ مجھے اُس نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔