تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 244
عربی کی کتابوں میں ایک لطیفہ لکھا ہے جو دراصل لطیفہ نہیں بلکہ کثیفہ ہے مگر اس لئے کہ یہا ں چسپاں ہوتا ہے اُسے بیان کردیتا ہوں۔ہماری عربی کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی مولوی صاحب تھے جو بڑے بے وقوف اور بخیل تھے۔جو بھی روپیہ آتا اُسے جمع کرلیتے اور بیوی کو صرف آنہ دو آنے خرچ کرنے کے لئے دے دیتے۔تنگ آکر وہ طلاق لے لیتی دوسری آتی تو اُسے بھی اسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا آخر ایک عورت آئی اور اس نے ارادہ کر لیا کہ میں اس بخیل سے اس کا سا را روپیہ چھین لوں گی چنانچہ اُس نے آتے ہی اپنے پاس سے خوب مزیدار چیزیں پکا پکا کر اُسے کھلانی شروع کر دیں اور کہتی یہ میرے بھائی نے بھیجی ہیں۔یہ میرے چچا نے بھیجی ہیں یہ میرے فلاں رشتہ دارنے بھیجی ہیں۔اِسی طرح اُس نے پیاز اور لہسن وغیرہ خوب کھلانے شروع کر دئیے اُس نے یہ بھی پتہ لگا لیا کہ روپیہ کہاں رکھاہے چنانچہ وہ رسّی کو موم لگاکر اس جگہ لٹکاتی جہاں روپیہ رکھا تھا اور ایک اشرفی نکال لیتی اور اُسی سے اُسے کھلانا پلانا شروع کردیتی جب وہ اشرفی ختم ہوجاتی تو ایک اور نکال لیتی۔آخر نفاخ چیزیں کھاکھاکراُس کا جگر خراب ہوگیا اور پیٹ پھولنا شروع ہوگیا جب اس کا پیٹ کچھ زیادہ بڑھ گیا تو عورت نے اس کا پیٹ ملنا شروع کیا اور پیٹ ملتے ملتے کہا کہ تمہیں توحمل ہوگیا ہے۔وہ گو مولوی تھا مگر بے وقوف تھا۔سنتے ہی کہنے لگا خبردار کسی کو بتانا نہیں ورنہ میری بڑی بدنامی ہوگی۔اُس نے کہا فکر نہ کرو میں کسی کو نہیں بتاتی غرض اس طرح اس کا پیٹ پھولتا چلاگیا اور وہ یقین دلاتی چلی گئی کہ یہ حمل ہے نو ماہ کے بعد اُس نے اپنی ایک ہمسائی سے جو اس کی سہیلی تھی مشور ہ کیا اور دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ کسی کا بچہ اٹھا کر لے آتے ہیں اور اسے دکھادیتے ہیں کہ یہ تیرے حمل کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے چنانچہ وہ کسی کا بچہ لے آئے اور انہوں نے اُس کا پیٹ خوب ملنا شروع کیا اور پھر ایک بچہ نکال کر دکھادیا کہ لو یہ بچہ پیدا ہوگیا ہے اس نے منتیں کرنی شروع کیں کہ کسی کو بتانا نہیں۔اور پھر کہا کہ اب بچہ تو پیدا ہو گیاہے اس کے دُودھ کا کیا انتظام ہوگا وہ کہنے لگی کہ دُودھ کا فکر نہ کرومیں اس کا خود انتظام کرلوں گی۔ادھر اُس نے سارے شہر میںخبر مشہور کردی کہ مُلا جی کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوا ہے اور سارے شہر کے لوگ اُس کے پاس آنے لگے۔وہ اس قدر گھبرایا کہ شہر چھوڑ کر ہی بھاگ گیا اور پندرہ بیس سال تک اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔آخر اُسے خیال آیا کہ اب تو بات بہت پرانی ہوچکی ہے سب لوگ اس قصہ کو بھول چکے ہوں گے آئو اب وطن واپس چلوں چنانچہ بیس سال کے بعد وہ اپنے شہر میں واپس آیا۔شہر کی حالت بالکل بدل چکی تھی۔پُرانے لوگوں میں سے کئی مرچکے تھے اور بچے جوان ہوچکے تھے۔ایک جگہ کچھ نوجوان کھیل رہے تھے۔اس نے ایک لڑکے کو بلایا اور پوچھا کہ کچھ جانتے ہو فلاں مکان کس گلی میں ہے۔اُس نے جواب دیا کہ مجھے توکچھ علم