تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 241

میں بھی اور کہل کے زمانہ میں بھی ایسی باتیں کریں گے جو معجزانہ ہوں گی۔اور تمام انبیا ء ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ سال تک وہ کلام کیا کہ مسیح ؑ تو مسیح ؑ ،موسیٰ ؑ کا کلام بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہے۔چنانچہ موسیٰ کی تورات اور عیسیٰ کی انجیل قرآن کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا رکھتی ہیں۔حالانکہ یہ کلام چالیس سال کی عمر میں نازل ہونا شروع ہوا تھا۔پس خدا ہی یہ بتا سکتا تھا کہ مسیح ایسا کلام کرے گا جو معجزہ ہوگا۔یہ معجزہ دو مہینے کے بچہ کے کلام کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اس کلام کی ذاتی خوبیوں اور حُسن کی وجہ سے ہے۔پس مہد کے معنے بچپن کے کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اگر وہ جوانی میں بھی ایسی باتیں کرتے تھے جو عام آدمی نہیں کرسکتے تھے تو وہ معجزہ تھا۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں بولے مگراُن کا کلام پھر بھی معجزہ تھا اور ایسا معجزہ کہ مسیح کو اس کا ہزارواں حصہ بھی نصیب نہیں ہوا پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ ؑ وغیرہ کا کلام جس طرح بڑی عمر میں معجزہ تھا اور خدا تعالیٰ ہی اس کے متعلق پہلے سے بتاسکتا تھا اسی طرح مسیح کے متعلق تھا۔پس پیشگوئی کی ضرورت مہد میں کلام کرنے کے لئے نہ تھی کیونکہ اس کے ساتھ کہل بھی لگا ہوا ہے پیشگوئی کی ضرورت معجزانہ کلام کی وجہ سے تھی اور اسی وجہ سے مہد کے ساتھ کہل لگایا گیا ہے کیونکہ کلام خاص جس طرح جوانی میں معجزانہ ہوتا ہے اسی طرح کہولت اور بڑھاپے میں بھی معجزانہ ہوتا ہے۔قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّاۙ۰۰۳۱وَّ (یہ سُن کر ابن مریم نے ) کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھے کتاب بخشی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے بابرکت (وجود) بنایا ہے۔اور جب تک میں زندہ ہوں مجھے نماز الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا۰۰۳۲وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ١ٞ وَ لَمْ يَجْعَلْنِيْ اور زکوۃٰ کی تاکید کی ہے۔اور مجھے اپنی والدہ سے نیک سلوک کرنےوالا بنایا ہے