تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 240

اپنے علم و فضل اور اپنی عمر کی بڑائی پر فخر کرتے ہیں۔دیکھو سورئہ آل عمران میں بتایا گیا ہے کہ يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا (آل عمران :۴۷)مسیح مہد اور کہل میں کلام کرے گا۔اِس سے مسلمان یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ ایک پیشگوئی ہے جس میں بتا یا گیا تھا کہ مسیح بچپن میں کلام کرے گا اور مہد سے مراد حقیقی مہد ہے لیکن یہ نتیجہ نکا لنا درست نہیں۔کیونکہ سورئہ آل عمران میں مہد کے ساتھ کہل بھی لگایا گیا ہے اگرمہد میں بولنا معجزہ ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا کہولت میں بولنا بھی معجزہ ہوتاہے۔کیا ۳۳ سے پچاس سال تک کی عمر میں جو کہولت کا زمانہ ہوتاہے لوگ بولا کرتے ہیں یا تنتیس سے پچاس سال تک کی عمر والا اگر بولے تو اُسے بڑا معجزہ سمجھا جا تا ہے؟ جب مہد کے ساتھ کہل کا لفظ بھی لگایا ہے تو معلوم ہوا کہ یہاں کسی عمر میں بولنے کا مجزہ مراد نہیں بلکہ بولنے کی نوعیت مراد ہے اگر کسی عمر میں بولنا مراد ہوتا تو ساتھ کہل کا لفظ کیوں ہوتا۔اگر کہل میں بولنا معجزہ ہوتا ہے تو پھر مہد سے مراد بھی دودھ پیتے بچے کا کلام کرنا مراد ہوسکتا ہے اور اگر کہولت کا کلام عام بات ہے تو مہد کا زمانہ بھی وہی زمانہ لیا جائے گا جس میں عام بچے بولتے ہیں۔اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ پھر پیشگوئی کیو ں کی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مہد کے زمانہ کے متعلق پیشگوئی کرنے کی وہی ضرورت ہے جو کہولت کے زمانہ کے متعلق پیشگوئی کرنے کی ہے آخر کہولت کی عمر والے باتیں کیا کرتے ہیں یا نہیں جب کیا کرتے ہیں تو پھر یہاں پیشگوئی کیوںکی ؟ بہر حال کو ئی نہ کوئی غرض ہے جس کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی کی ہے اور ہمیں وہ غرض تلاش کرنی چاہیے سو یاد رکھنا چاہیے کہ کلام اپنی ذات میں بھی معجزہ ہوتاہے قطع نظر عمر کے۔یعنی ہے تویہ معجزہ اگر معجزہ نہ ہوتا تو پیشگوئی نہ ہوتی اور یہ نہ کہا جاتا کہ ایسا ہوجائے گا مگر سوال یہ ہے کہ معجزہ آیا عمر کے لحاظ سے ہوتا ہے یا اس میں کوئی اور بات ہوتی ہے ؟ ہم مان لیتے ہیں کہ اگر دو مہینے کا بچہ بول پڑے تو یہ بڑ امعجزہ ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے۔وہ پچاس سال کی عمر میں بھی بولے گا پچاس سال کی عمر میں بولنا کس طرح معجزہ ہوسکتا ہے؟اس کا جواب وہی ہے جو میں اُوپر دے چکا ہوں کہ قطع نظر عمر کے کلام اپنی ذات میں بھی معجزہ ہوتا ہے۔مثلاََ قرآن کریم ایک بڑا معجزہ ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کس وقت نا زل ہونا شروع ہوا۔جب آپ دومہینے کے بچے تھے یعنی چالیس سا ل کے تھے۔چالیس سال کی عمر سے قرآن کریم نازل ہونا شروع ہو ا اور تریسٹھ سال کی عمر تک نازل ہوتا چلا گیا۔مگر ہم پھر بھی اُس کو معجزہ کہتے ہیں۔کیا اس لئے کہ آپ دو مہینے کے تھے جب یہ نازل ہوا یا تین مہینے کے تھے جب یہ نازل ہوا۔بلکہ ہم اس کلام کو کلام کی وجہ سے معجزہ کہتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کلام اِس شان کا ہے کہ دنیا اس کی مثال لانے سے عاجز ہے۔پس يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ اپنی تیا ری اور جوانی کے زمانہ