تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 237

اس جیسی کتاب بنا لائو۔یاعرفان الٰہی کا معجزہ ہے۔فطرت کے باریک رازوں کو ظاہر کرنے کا معجزہ ہے۔یہ ہر ایک سے منوایا جاسکتا ہے۔تو جو معجزے ہدایت کے لئے آتے ہیں اُن کے لئے یہ شرط ہوتی ہے کہ وہ ایسے ہی ہوں جن کو دشمن سے بھی منوایا جاسکے۔اِسی طرح بعض معجزات ایسے ہوتے ہیں جو صرف تقویت ایمان کے لئے ہوتے ہیں اُن کا منوایا جانا ضروری نہیں ہوتا وہ صرف مومنوں کے از دیا دایمان کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں اور ایسی شکل میں ظاہر کئے جاتے ہیں کہ مومن تو مان لیتا ہے اور کافر نہیں مانتا مثلاََ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیانی سوراخوں سے ایک دفعہ پانی پھوٹ نکلا اور ایک لوٹا پانی بہت سے لوگوں کی ضروریا ت کے لئے پورا ہوگیا(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیۃ) یا تھوڑا سا کھانا تھا مگر آپ کی دعا کی برکت سے بہت سے لوگوں نے کھانا کھا لیا اور وہ سیر ہوگئے(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خندق) یا مثلاََ یہ معجز ہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے کُرتے پر سرخی کے چھینٹے پڑے (سرمہ چشمہ آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۸۰ ح)۔اب ایک مومن اِن معجزات کو مان جائے گا لیکن دوسرا کہے گا کہ اپنے مریدوں سے جھوٹ بلوالیا ہے یا مثلاََ میں نے ایک دفعہ کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے مُنہ میں مشک ڈالا گیا ہے۔جب میں جاگا تو میرے مُنہ سے مشک کی خوشبو آرہی تھی میں نے اپنی بیوی کو جگایا اور اُس سے کہا کہ سونگھ کر دیکھو میرے مُنہ سے کسی چیز کی خوشبو آرہی ہے یا نہیں۔اُس نے سونگھا تو کہا کہ مشک کی خوشبو آرہی ہے۔اب یہ معجزہ میرے لئے توتقویت ایمان کا موجب تھا۔میری بیوی کے لئے بھی تقویت ایمان کا موجب تھا مگر دوسروں کے لئے اس کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔اِسی طرح ایک دفعہ مجھے روزہ لگااور بہت تکلیف ہوئی اس حالت میں یکدم مجھ پر غنودگی طاری ہوئی اور میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے اور اُس نے میرے مُنہ میں پان ڈالا ہے جب میری آنکھ کھلی تو پیاس بالکل غائب تھی۔تو ایک معجزے تقویت ایمان کے لئے ہوتے ہیں اور وہ مخصوص ہوتے ہیں مومنوں کے لئے اورایک آیت ہوتے ہیں یعنی دشمنوں پر حجت تمام کرنے کے لئے آتے ہیں۔یہ معجزے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دشمنوں کے سامنے کھلے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اور کچھ معجزے ایسے ہوتے ہیں جو ابتلائی ہوتے ہیں اوراُن میں رنج اور کوفت کا پہلو پایا جا تا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کسی حکمت کے ماتحت اُن کو ظاہر فرماتا ہے حضرت مسیح کی بن باپ ولادت بھی ایسے ہی ابتلائی معجزوں میں سے ہے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ یہود کو بتائے کہ اب نبوت تم میں ختم ہونےوالی ہے اوراس کے نشان کے طور پر اُس نے مسیح کو بن باپ پیدا کردیا لیکن یہودی مذہب پر ایمان لانےوالوں کے لئے یہ بات ماننی کہ آئندہ ہماری قوم میں سے نبوت مٹ جائے گی اور ایک غیر قوم میں چلی جائے گی بالکل ناممکن تھا۔اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ یہودی قوم کی توجہ محمد رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کی طرف پھرائے