تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 236

ہے تھا اس شان اور عظمت سے بعد میں اُس کا ذکر نہیں کیاگیا۔بلکہ بعض تو اس کی طرف اور بھی عیوب منسوب کرتے ہیں۔پس میرے نزدیک يٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ کہہ کرانہوں نے طعنہ دیا ہے کہ اے ہارون کی بہن یعنی جس طرح اس مریم نے قہر مارا اور وہ کوڑھی ہوگئی تھی اسی طرح تونے بھی کوڑھیوں والا کام کیاہے۔پس ان الفا ظ میں اُن کی طعنہ زنی تھی کہ اُس مریم نے بھی طوفان اٹھایا تھا تُونے بھی طوفان اُٹھایا ہے۔اس نے موسیٰ پر بدکاری کا الزام لگایا تھا اور تُو نے آپ بدکاری کی ہے حالانکہ تیرا باپ بُرا نہیں تھا اور تیری ماں بھی بُری نہیں تھی پس تُو نے یہ کیا گند اُچھالا ہے۔فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ١ؕ قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ اس پر اُس نے اُس (بچہ ) کی طرف اشارہ کیا۔اس پر لوگوں نے کہا ہم اس سے کس طرح باتیں کریں جو کہ کل تک صَبِيًّا۰۰۳۰ پنگھوڑے میں بیٹھنے والا بچہ تھا۔تفسیر۔جیسا کہ میں اُوپر بتا چکا ہوں ہمارے نزدیک حضرت مسیح کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی تھی اور الٰہی نشان کے طور پر ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے یہ فعل اس لئے کیا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی نسل سے جو نبیوں کا سلسلہ چلا آرہا تھا خدا تعالیٰ اس کو ختم کرکے بنی اسمٰعیل کی طرف منتقل کرنا چاہتا تھا اور یہ سلسلہ اتنا لمبا ہوگیا تھا کہ بنو اسحاق کے خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ نبوت اُن کے گھروں سے منتقل ہوکر اب کسی اور قوم میں چلی جائے گی اس کے لئے ایک بڑی ٹھوکر کی ضرورت تھی اور وہ ٹھوکر حضرت مسیح ؑ کی بن باپ پیدائش تھی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک معجزہ تھا۔مگر یہ معجزہ ایک ابتلا ءکا رنگ لئے ہوئے تھا۔معجزے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک معجزے ہدایت دینے کے لئے اور لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔وہ ایسے معجزے ہوتے ہیں جن کو دشمن سے بھی منوایا جا سکتا ہے۔اگر منوایا نہ جاسکے تو وہ حجت کس طرح ہوسکتے ہیں۔پس جو معجزے حجت کے لئے آتے ہیں وہ ایسی ہی شکل میں آتے ہیں جن کو منوایا جاسکے۔مثلاً ایک پیشگوئی ہے جسے شائع کردیا گیا۔دشمن نے اُس پر بحث کی۔اس کے مختلف پہلوئوں پر جرح کی اور پھر وہ پیشگوئی پوری ہوگئی تو اُ س کا کوئی دشمن انکار نہیں کرسکتا۔سوائے اُن کے جو ضدی طبیعت کے ہوں یا مثلاََ قرآن کریم کا معجزہ ہے یہ ایسا معجزہ ہے جو عیسائی سے بھی منوایا جا سکتا ہے ہم اُسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن سامنے پڑ ا ہے اگر ہمت ہے تو