تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 19

لیکن ایک دن عذاب کو دیکھ کر خوب دیکھنے اور سننے لگ جائیںگے اور زمین مسلمانوں کے سپرد ہو جائے گی(اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ سے اِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ تک) اس کے بعد اس وعدہ ابراہیمی کو تفصیل سے بیان کرتا ہے جس کا ذکر پہلے اشارۃً آیا تھا اور بتاتا ہے کہ کس طرح ابراہیم سے ایک وعدہ ہوا جو اسحاق ؑاور موسیٰ ؑکے ذریعہ سے پورا ہوا۔(وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ سے وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا تک) اس کے بعد اسماعیلؑ کا ذکر کرتا ہے کیونکہ اس جگہ یہ بتانا مقصود تھا کہ اسحاق ؑ کے وعدہ کے بعد اسماعیلؑ کا وعدہ پورا ہونا تھا ورنہ زمانہ کے لحاظ سے حضرت موسیٰ ؑ حضرت اسماعیلؑ کے بعد تھے ان کا ذکر حضرت اسماعیلؑ سے پہلے اس لئے کیا گیا کہ وہ اسحاق کے وعدہ کا حصہ تھے جو اسماعیلی وعدہ سے پہلے پورا ہونا ضروری تھا۔( وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ سے وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا تک) اس کے بعد حضرت ادریس ؑ کا ذکر کیا جن کے بارہ میں رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا کا ذکر فرما کر بتایا کہ ان کو بھی حضرت مسیح سے رفع روحانی میںایک مشابہت ہے چنانچہ عہد نامہ قدیم پیدائش باب ۵ آیت ۲۴ میں لکھا ہے کہ حنوک (جسے عرب لوگ ادریس کہتے ہیں۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی باتیں لوگوں کو سناتا تھا۔بائبل میں بھی لکھا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ چلتا تھا۔پیدائش باب ۵ آیت ۲۲ اور اس سے مراد بھی خدا تعالیٰ کی صفات کا علم حاصل کرنے کے ہیں یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا ایک اعلیٰ ظہور تھا اور خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرتا تھا) غائب ہو گیا۔اس لئے کہ خدا نے اسے لے لیا (پیدائش باب ۵ آیت ۲۴) ’’غائب ہوگیا کہ خدا نے اسے لے لیا‘‘کا ترجمہ قرآن کریم میں رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا سے کیا گیا ہے اور ایسے ہی الفاظ حضرت مسیح ؑناصری کے متعلق ہیں۔لیکن باوجود اس کے مسیحی حنوک کو خدا نہیں کہتے۔بلکہ انسان ہی سمجھتے ہیں۔پھر ان لفظوں سے مسیح ؑکو کیوں خدا سمجھنے لگ گئے ہیں بلکہ بقول بائبل حنوک کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ وہ موت کے بغیر ہی آسمان پر چلا گیا اور خدا باپ کی طرح اس نے کبھی موت نہ چکھی۔(وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ سے وَ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا تک) پھر بتاتا ہے کہ یہ سب لوگ آدمؑ سے لے کر نوح ؑتک اور نوح ؑ سے اسرائیل کے آخری نبیوں تک انسان تھے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار، پھر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے مسیح کو خدائی کا عہدہ دیا جاتا ہے۔(اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ سے خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِيًّا تک) اس کے بعد بتایا کہ لوگوں نے تعلیمات سماوی کو بھلا کر لہو ولعب کو اختیار کر لیا ہے لیکن اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوگا۔