تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 225
ہیں (کیونکہ لوقا کی انجیل مسیح ؑ کے واقعہ صلیب کے بہت بعد لکھی گئی ہے ) کون یاد رکھے گا کہ مردم شماری کس سال میں ہوئی۔آئو ہم دنیا کے سامنے یہ وجہ پیش کردیں کہ یوسف اور مریم کسی اور غرض سے نہیں بلکہ مردم شماری کی غرض سے ناصرہ سے بیت لحم گئے تھے لیکن قرآن تو سچی بات بتاتا ہے۔اُس نے وہ بات بتائی ہے جو عین فطرت انسانی کے مطابق ہے اور اس سے واضح ہوتاہے کہ مسیح ؑ کی پیدائش دسمبر میں نہیں ہوئی جیسا کہ عیسائی بتلاتے ہیں۔بلکہ جولائی یا اگست میں ہوئی ہے۔جبکہ کھجور کے درخت پرکثرت سے پھل تیار ہوجاتا ہے۔عیسائیوں نے دسمبر کی پیدائش محض اس لئے بیان کی ہے تاکہ اصل واقعہ پر پردہ پڑا رہے اور لوگ یہ سمجھیں کہ حضرت مسیح شادی کے بعد جائز حمل سے پیدا ہوئے ہیں۔پھر انجیل میں مسیح کی پیدائش کا موقع بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’اسی علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نگہبانی کررہے تھے۔‘‘ (لوقا باب ۲ آیت ۸) ظاہر ہے کہ یہ گرمی کا موسم تھا نہ کہ شدید سردی کا۔دسمبر کا مہینہ تو علاوہ شدید سردی کے فلسطین میں سخت بارش اور دُھند کاہوتا ہے۔کون یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ ایسے موسم میں کھلے میدان میں چرواہے اپنے گلّوں کو لے کر باہر نکل آئے تھے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ گرمی کا موسم تھا چنانچہ پیکس تفسیر بائبل میں انجیل لوقا کے مفسّرپرنسیپل اے۔جے۔گریوایم۔اے۔ڈی کی طرف سے لوقا کے اس بیان پر کہ حضرت مسیح ؑ کی پیدائش جس موسم میں ہوئی تھی اُس وقت چرواہے گلّوں کو باہر نکال کر کھلے میدان میں راتیں بسر کرتے تھے مندرجہ ذیل تبصرہ موجود ہے کہ یہ موسم’’ ماہ دسمبر کا نہیں ہوسکتا ہمارا کرسمس ڈے مقابلتہََ بعد کی ایک روایت ہے جو کہ پہلے پہل مغرب میں پائی گئی ‘‘۔اسی طرح بشب جارنس اپنی کتاب RISE OF CHRISTIANITYمیں تحریر کرتے ہیں ’’اس تعین کے لئے کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ ۲۵ دسمبر ہی مسیح کی پیدائش کا دن تھا اگر ہم لوقا کی بیان کردہ ولادت مسیح کی کہانی پر یقین کرلیں کہ اس موسم میں گڈریے رات کے وقت اپنی بھیڑوں کے گلّہ کی نگرانی بیت لحم کے قریب کھیتوں میں کرتے تھے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش موسم سرما میں نہیں ہوئی جبکہ رات کو ٹمپریچر اتنا گرجاتا ہے کہ یہود یہ کے پہاڑی علاقہ میں برف باری ایک عام بات ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کرسمس ڈے کافی بحث و تمحیص کے بعد قریباََ ۳۰۰ء میں متعین کیاگیا ہے‘‘ (ص۷۹)