تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 164
کی طرف سے زبان بند ہو جانے کا) مگر بائبل کہتی ہے کہ ان کی زبان بطور سزا بند رہی اور یحییٰ ؑ کی پیدائش کے بعد ان کے ختنہ کے دن تک وہ گونگے رہے۔آخر ختنہ کے دن جب انہوںنے یہ لکھ کر دیا کہ اس کا نام یحییٰ رکھو تب ان کی زبان کھلی۔(لوقا باب ۱آیت ۲۰،۵۷) ان دونوں میں اختلاف تو ہے لیکن خود سوچ لو کہ عقل اور فطرت کسے سچا بتاتی ہے۔ایک نبی یا بائبل کے بیان کے مطابق کاہن پر (جو ایسا ہی مقام رکھتا ہے جیسا ہمارے ہاں محدث کا مقام ہوتا ہے) خدا تعالیٰ ابراہیمی انعام نازل کرتا ہے یعنی جس طرح ابراہیم ؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں بیٹے کا وعدہ کیا تھا اسی طرح زکریا ؑ کے ساتھ اس نے بیٹے کا وعدہ کیا ایسے بیٹے کاجو بقول مسیح ؑ سب نبیوں کا موعود تھا اور اس نے ضرور پیدا ہونا تھا۔کیونکہ اس کے بغیر مسیح ؑپیدا نہیں ہو سکتے تھے۔لیکن محض زکریا کے اس قول پر کہ میں بھی بوڑھا ہوں اور میری بیوی بھی بوڑھی ہے بچہ کہاں سے ہو گا اس پر یہ عذاب نازل کیا جاتا ہے کہ اسے دس ماہ کے لئے گونگا کر دیا جاتا ہے حالانکہ بائبل سے ثابت ہے کہ یہی فعل سرّی زوجہ ابراہیم ؑ نے بھی کیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ’’ سارہ نے اپنے دل میں ہنس کر کہا کیا اس قدر عمر رسیدہ ہونے پر بھی میرے لئے شادمانی ہو سکتی ہے حالانکہ میرا خاوند بھی ضعیف ہے۔‘‘ (پیدائش باب۱۸ آیت ۱۲) لیکن اس پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔اور خدا تعالیٰ نے اس کو ایک دن کے لئے بھی گونگا نہیں کیا۔حالانکہ اگر یہ فعل جرم تھا تو اس جرم کے بدلہ میں یہی عذاب سارہ پر بھی نازل ہونا چاہیے تھا۔مگر اس پر توکوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔اور زکریا ؑ نے یہی بات کہی تو اسے دس ماہ کے لئے گونگا کر دیا گیا۔پھر بائبل سے ہی ثابت ہے کہ زکریا کا یہ قول انکار کے طور پر نہ تھا بلکہ محض اظہار تعجب کے طور پر تھا یعنی یہ کتنی بڑی عظمت اور شان کا نشان ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ لوقا میں فرشتہ کا یہ قول درج ہے کہ ’’ اے زکریا مت ڈر کہ تیری دعا سنی گئی۔‘‘(لوقا باب۱آیت ۱۳) اب سوال یہ ہے کہ کیا زکریا اس دن بوڑھے ہوئے تھے یا زکریا کی بیوی اس دن بوڑھی ہوئی تھیں وہ لازماً چھ مہینے یا سال دو سال پہلے بوڑھے ہو چکے تھے۔اور اگر یہ بات انہیں قطعی طور پر ناممکن نظر آتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہی نہیں ہو سکتا تو وہ اس قسم کی دعا کرتے ہی کیوں؟ ان کا دعا کرنا اور بائبل میں فرشتے کا یہ قول درج ہونا کہ ’’ اے زکریا مت ڈر کہ تیری دعا سنی گئی‘‘ بتاتا ہے کہ زکریا کا اس بات پر ایمان تھا کہ خدا ایسا کر سکتا ہے۔زکریا جانتا تھا کہ میں بوڑھا ہو چکاہوں۔زکریا جانتا تھا کہ میری بیوی بھی بوڑھی ہو چکی ہے۔مگر وہ یہ بھی یقین رکھتا تھا