تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 160
دونوں باتوں کو سامنے رکھ کرکوئی شخص کہنا شروع کر دے کہ ان میں بڑااختلاف ہے۔ہر شخص جو حقیقت کو سمجھتا ہو گا وہ فوراً کہے گا کہ ان میں اختلاف کون سا ہے۔ایک صبح کی بات ہے او ر دوسری دس بجے کی ہے۔اختلاف تب ہوتا جب ایک ہی وقت کی بات میں متضاد بیان ہوتا۔بائبل کے یہ الفاظ کہ اے زکریا تیری دعا سنی گئی بتاتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کو قبولیت دعا سے شروع کرتی ہے لیکن قرآن کریم جو واقعہ بیان کرتا ہے وہ دعا کرنے سے پہلے کا ہے۔پس بائیبل کی اس خاموشی کے صرف یہ معنے ہیں کہ قرآن کریم میں ابتداء سے واقعہ بیان کیا گیا ہے اور بائبل نے اس دعا کے محرک کا ذکر نہیں کیا۔اس سے اس کے بیان کے نامکمل ہونے کا تو پتہ چلتا ہے لیکن قرآن کریم کی غلطی ظاہر نہیں ہوتی۔(۲) بائبل کہتی ہے کہ ایک فرشتہ نے یہ بشارت دی مگر قرآن کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ اے زکریا تیرے ہاں بیٹا ہو گا۔بظاہر یہ اختلاف ہے لیکن حقیقت میں نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام اکثر فرشتے لاتے ہیںاور فرشتے اپنے پاس سے غیب کی باتیں نہیں کر سکتے ورنہ ان کو خدا ماننا پڑے گا۔پس اگر فرشتے نے کہا تب بھی وہ خدا کی طرف سے کہا اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فرشتہ نے یوں کہا اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے یوں کہا۔اور چونکہ اس جگہ پر یہ الفاظ ہیں کہ ’’تیری دعا سنی گئی‘‘ اس لئے اس کے معنے یہ ہیں کہ فرشتے کو خدا نے بتایا تھا۔کہ میں نے زکریا کی دعا سن لی ہے۔پس فرشتہ کا قول خدا تعالیٰ کی نمائندگی میں تھا۔اور اس کا ذکر دونوں طرح کیا جاسکتا تھا۔اس طرح بھی کہ فرشتے نے کہا اور اس طرح بھی کہ خدا نے کہا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے خواب میں اگر کوئی شخص آم دیکھتا ہے تو اس کی تعبیریہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔اب اگر کوئی شخص ایسی خواب دیکھے اور اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو جائے اور وہ اس کی پیدائش پر کہے کہ خدا نے مجھے پہلے سے بتا دیا تھا کہ میرے ہاں لڑکا ہو گا تو کیاکوئی شخص کہہ سکتا کہ تم جھوٹ بولتے ہو تمہیں خدا نے کب کہا تھا تم نے تو آم دیکھا تھا؟اگر کوئی شخص ایسا اعتراض کرے تو سب لوگ اسے پاگل کہیں گے کیونکہ خواہ آم کی شکل میں اسے بتایا گیا ہو بہرحال بتایا تو اسے خدا نے ہی تھا۔اسی طرح تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ فرشتے نے یوں کہا اور تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا نے یوں کہا۔آخر فرشتہ اپنے پا س سے تو کچھ نہیں کہتا وہ تو جو کچھ کہتا ہے خدا کی طرف سےہی کہتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کے ایک دوسری جگہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہی حقیقت ہے۔کیونکہ سورئہ آل عمران میں اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ هُوَ قَآىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى (آل عمران :۴۰) یعنی حضرت زکریا علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے کہ اتنے میں ملائکہ ظاہر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ خدا تمہیں یحییٰ کی پیدائش کی بشارت دیتا ہے دیکھ لو