تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 159
پھر لکھا ہے کہ یہ فرشتہ جبریل تھا۔اور لکھا ہے کہ چونکہ زکریا نے فرشتہ کی بات پر شک کیا اس لئے اسے یوحنا کی پیدائش بلکہ ختنہ کے وقت تک کے لئے یعنی قریباً دس ماہ کے لئے گونگا کیا گیا۔یہ بات قرآن شریف سے مختلف ہے۔مگر ظاہر ہے کہ ان کے نبی ہونے کے لحاظ سے قرآن کریم کا بیان زیادہ درست ہے۔قرآن کریم کا بیان ایک نبی کی شان کے مطابق ہے اور انجیل کا بیان نبی کی شان کے خلاف ہے۔بائبل کے بیان اور قرآنی بیان میں کچھ اختلافات بھی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:۔(۱) قرآن کہتا ہے کہ حضرت زکریا ؑ کو دعا کی تحریک حضرت مریم علیہا السلام کے ایک معصومانہ کلام سے ہوئی (آل عمران:۳۸،۳۹)بائبل اس بارہ میں خاموش ہے۔مگر خاموش ہونا واقعہ کے غلط قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتا۔بائبل نے جہاں بشارت کا ذکر کیا ہے تسلیم کیا ہے کہ زکریا ؑ بیٹے کے لئے دعا کیاکرتے تھے۔کیونکہ لکھاہے فرشتے نے اسے کہا کہ ’’تیری دعا سنی گئی‘‘ (لوقا باب۱ آیت ۱۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا بیٹے کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔لیکن بائبل نے یہ نہیں بتایا کہ اس دعا کا محرک کیا ہوا۔قرآن کریم نے یہی واقعہ ابتداء سے بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام سے ان کی باتیں ہوئیں تو اس بچی کے معصومانہ کلام سے ان کے دل میں دعا کا جوش پیدا ہوا اور انہوںنے اپنے رب سے یہ دعا کی۔گویا بائبل نے صرف اتنا واقعہ بیان کیاہے جو بعد کا ہے دعا کے محرک کا ذکر اس نے نہیں کیا۔اس سے اس کے نقص کا تو اظہار ہوتا ہے لیکن قرآن کریم کی غلطی ظاہر نہیں ہوتی۔ہمارے پاس اس بات کا ثبوت کہ قرآن کریم کی روایت ہی صحیح ہے یہ ہے کہ حضرت یحییٰ ؑ حضرت زکریا ؑ کی آخری عمر میں پیدا ہوئے تھے اور اس با ت کو خود بائبل بھی تسلیم کرتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب فرشتہ نے انہیں یحییٰ کی پیدائش کی خوشخبری دی تو انہوں نے کہا کہ ’’میں اس بات کو کس طرح جانوں۔کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی عمر رسیدہ ہے‘‘۔(لوقا باب ۱آیت ۱۸) اب سوال یہ ہے کہ حضرت زکریا نے اس سے پہلے کیوں نہیں دعا کی؟ آخری عمر میں جا کر دعا کرنا صاف بتاتا ہے کہ کوئی نیا محرک پیدا ہوا تھا اور وہ نیا محرک یہی تھا کہ حضرت مریم ؑ پیدا ہو چکی تھیں جن کے ایک معصومانہ کلام سے انہیں دعا کی تحریک پیدا ہوئی پس قرائن اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ قرآن کریم کی بات ہی صحیح ہے۔بہرحال اس بات کو اختلاف قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص صبح کی بات بیان کرے اور دوسرا دس بجے کی اور ان