تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 10

ایک فرضی ڈھکونسلہ ہے جس سے ان کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہم اتنے بڑے ماہر فن اور ادیب ہیں کہ ہم کلام کا سٹائل دیکھ کر ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ کون سے زمانہ کی ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا ماہر فن بھی اس قسم کی بات نہیں بتا سکتا۔اس زمانہ میں ہی اگر جرمنی ، فرانس ، امریکہ اور انگلستان کے ادیبوں سے دریافت کیا جائے کہ فلاں فلاں قومی شاعر جو تم میں گزرے ہیں ان کی فلاں فلاں نظمیں کس سن کی ہیں تو وہ یہی کہیں گے کہ کیا ہم منجم ہیں کہ اس قسم کی بات بتا سکیں۔سوائے اس کے کہ کسی کو ذاتی طور پر علم ہو کہ فلاں نظم کس سن میں کہی گئی تھی کوئی شخص نظموں کو دیکھ کر ان کے سن کی تعیین نہیں کر سکتا لیکن قرآن کریم کے متعلق وہ یہ اندازہ لگانے بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ آیتیں فلاں سن کی ہیں اور یہ فلاں سن کی۔اس سے ان کی غرض محض اتنی ہوتی ہے کہ جو پیشگوئی ثابت ہوتی ہو اس میں رخنہ ڈال دیں اور اسلام کی صداقت پر پردہ ڈال دیں۔غرض وہیری اور میور کا فعل خود دلالت کرتا ہے کہ وہ دونوں اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ اس سورۃ کا نزول ایسے وقت میں ہوا ہے کہ یہ آئندہ کے حالات کے متعلق بڑی بھاری پیشگوئی بن جاتی ہے پس انہوں نے چاہا کہ اس پر پردہ ڈال دیں اور اسے بعد کے زمانہ کی قرار دے دیں۔غرض یہ ایک عجیب نشان ہے کہ تین سال تک متواتر کلام الٰہی نازل ہوتا رہتا ہے مگر اس میں عیسائیت کا کوئی تفصیلی ذکر نہیں ہوتا۔لیکن جونہی عیسائیت سے ٹکرائو کا زمانہ قریب آتا ہے ایک سورۃ نازل ہوجاتی ہے اور پھر چھ ماہ یا سال کے بعد مسلمان ہجرت کر کے ایک عیسائی ملک میں چلے جاتے ہیں۔وہاں عیسائیوں سے ان کی بحثیں ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں عیسائی ایک مسلمان کا شکار کر لیتے ہیں اور اسے عیسائی بنا لیتے ہیں لیکن مسلمانوں نے ان کے بادشاہ کا شکار کر لیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔پس قبل از وقت اس سورۃ کا نازل ہونا اور اس کے معاً بعد ایسے حالات کا پیدا ہو جانا جن کے نتیجہ میں اسلام اور عیسائیت کا ٹکرائو ہو گیا اسلام کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔اس سورۃ کے نزول کے بعد عیسائیت کا ذکر زمانۂ قبل از ہجرت میں ختم ہو جاتا ہے پھر مدینہ میں جا کر عیسائیت کا ذکر شروع ہوا ہے درمیان میں عیسائیت کی طرف اشارے ضرور کئے گئے ہیں لیکن تفصیل کے ساتھ عیسائیت کا ذکر پھر سورۂ آل عمران میں ہوا ہے جو ہجرت کے بعد دوسرے یا تیسرے سال مدینہ میںنازل ہوئی۔خود اس سورۃ کا مضمون بھی اس کے مدنی ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس میں جنگ احد اور اس کے متعلقہ واقعات کا ذکر ہے اور یا پھر عیسائیت کا ذکر سورۂ نساء میں آتا ہے کہ وہ بھی مدنی سورۃ ہے بلکہ سورۂ آل عمران کے بعد چوتھے سال سے اس کا نزول شروع ہوا ہے اور کچھ حصہ چوتھے سال کے بعد بھی نازل ہوا ہے سورۂ نساء کے علاوہ کسی حد تک تفصیل سے