تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 9

پیشگوئی کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اسلام اب عیسائی ممالک میں جانے والا ہے۔پس یہ اعتراض ان کے دل کو کھٹکا۔اور چونکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ قرآن کریم میں کوئی پیشگوئی نہیں اس لئے انہوں نے ضروری سمجھا کہ اس کا کوئی حل تلاش کریں ورنہ مسلمان مجبور کریں گے کہ بتائو تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ تین سال تک مشرکین مکہ کے سامنے عیسائیوں کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔نہ ان کی تعلیم کا نہ تاریخ کا۔نہ غلط عقائد کا۔مگر پھر یکدم ایک پوری کی پوری سورۃ اتاری جاتی ہے اور توجہ دلائی جاتی ہے کہ اب ایسے واقعات رونما ہونے والے ہیں کہ مسلمانوں کو عیسائیوں سے واسطہ پڑے گا اور ان ممالک میںبھی جہاں عیسائیوں کا زور ہو گا۔اسلام کو ان کے مقابلہ کے لئےنکلنا پڑے گا۔کیا اس سے ظاہر نہیںہوتا کہ اسلام اور عیسائیت کا جو ٹکرائو ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قبل از وقت اس کی خبر دے دی تھی اور چونکہ یہ ایسی چیز ہے جس کو برداشت کرنا ان کی طاقت سے بالکل باہر ہے اس لئے قرآنی نشان کو باطل کرنے کے لئے انہوں نے کوشش کی کہ اس سورۃ کو ہجرت حبشہ سے بعد کی قرار دیں۔مگر اس عظیم الشان نشان پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں اور تو کچھ نہ سوجھا اپنے آپ کو بڑا ادیب ظاہر کرنے کے لئے انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اس سورۃ کے الفاظ اور اس کا سٹائل بتا رہا ہے کہ یہ سورۃ بعد میں نازل ہوئی تھی (تفسیر القرآن وہیری جلد۳) حالانکہ عربی سٹائل کو وہ جانتے ہی نہیں۔بلکہ عربی تو الگ رہی اگر شکسپیئر کے ڈرامے ہی ہم ان کے سامنے رکھ دیں اور ان سے دریافت کریں کہ بتائو یہ کون سے سال کا ہے اور وہ کون سے سال کا۔تو وہ سخت ذلیل ہو کر شرمندہ اور لاجواب ہو جائیں گے اور یہ ہرگز نہیں بتا سکیں گے کہ یہ کس سال کا ہے اور وہ کس سال کا۔زبان کاسٹائل پہچان کر یہ بتانا کہ یہ عبارت کس سن کی ہے ایک لمبی تاریخ پر عبور کا متقاضی ہوتا ہے جس میںکوئی زبان تدریجاًارتقائی منازل طے کرتی ہے اور پھر اس میں بھی ہزاروں قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔بعض شاعر ایسے گزرے ہیں جنہوں نے پچاس ساٹھ سال زندگی بسر کی ہےانہوں نے ابتدائی ایام میں بعض الفاظ اپنے شعروں میں استعمال کئے ہیں جن کو آخری ایام میں انہوں نے استعمال نہیںکیا۔ایسے شخص کی کسی نظم کو اگر ہم دیکھیں گے تو ان الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہہ سکیں گے کہ یہ آخری زمانہ کی نظم ہے یا ابتدائی زمانہ کی مگر اس قسم کا اظہار خیال بھی صرف چند الفاظ کی بناء پر ہو گا۔یہ نہیں کہ شعر کی بناوٹ دیکھ کر کوئی شخص کہہ سکے کہ یہ فلاں زمانہ کی ہے اور وہ فلاں زمانہ کی۔غالب بہت بڑا شاعر گزرا ہے مگر اس کے کلام پر بھی جرح کرنے والے کہتے ہیں کہ جیسے بعض سہل سے سہل شعر ہم اس کے آخری زمانہ کے کلام میں دکھا سکتے ہیں ویسے ہی بعض آسان شعر ہم اس کے ابتدائی زمانہ کے کلام میں بھی دکھا سکتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ غالب کے کلام میں بعد میں امپروومنٹ ہو گئی تھی غلط بات ہے اسی طرح ریورنڈ وہیری اور سر میور کا یہ