تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 125

ان کے سوا جو اسی کے ہو کے جمع ہوئے ہیں اوروں کو بھی اس پاس جمع کروں گا۔‘‘ (یسعیاہ باب ۵۶ آیت۸) یہاںیسعیاہ نبی یہ پیشگوئی فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جبکہ خدا تعالیٰ اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو پھر اکٹھا کرے گا اور ایک نبی بھیجے گا جس کے اردگرد وہ جمع ہو جائیں گی۔یسعیاہ نبی جو اس جگہ خبر دیتے ہیں یہ مسیح کے بارہ میں ہے کیونکہ مسیح کے سوا اور کوئی شخص نہیں جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ میںبنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کے لئے آیا ہوں۔یہ جو گمشدہ بھیڑیں ہیںان سے مراد بنی اسرائیل کے وہ دس قبیلے ہیں جن کونبو کد نضر کے زمانہ میں عراقی حکومت نے حملہ کر کے تباہ کر دیا تھا اس حملہ کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس وقت یہودیوں میںپھوٹ پڑی ہوئی تھی اور وہ ایک دوسرے کی دشمنی میں مشغول رہتے تھے چنانچہ اس وقت یہود کی دو حکومتیں بنی ہوئی تھیں ایک اسرائیلی کہلاتے تھے اور دوسرے یہودی کہلاتے تھے ایک یروشلم سے تعلق رکھتے تھے اور دوسروں نے اپنا الگ دارالحکومت بنایا ہوا تھا جب عراقی حکومت نے یہودی حکومت کو تباہ کرنے کے لئے حملہ کیا تو یہود کا ایک حصہ دوسروں کی دشمنی کی وجہ سے اس کے ساتھ مل گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ عراقی حکومت یہود کی آپس کی پھوٹ کی وجہ سے ملک پر غالب آ گئی۔اور اس نے یہود کے تمام مقدس مقامات تباہ کر دئیے حتیٰ کہ یروشلم کا معبد جو حضرت سلیمان علیہ السلام کا بنا یا ہوا تھا اس میں سور کی قربانی کی گئی اور اسی طرح اور بہت کچھ مظالم کئے گئے چونکہ یہود کا حکومت سے دیر سے مقابلہ چلا آتا تھا اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب ان کا پوری طرح قلع قمع کر دیا جائے۔چنانچہ بارہ یہودی قبائل میں سے دس کو اس نے پکڑ لیا اور مشرق کے علاقہ میںلا کر پھیلا دیا۔صرف دو قبائل فلسطین میں رہ گئے تھے اور یہ دو قبائل وہ تھے جنہوں نے اپنی قوم سے دشمنی کر کے دشمن کا ساتھ دیا تھا۔اس لئے ان سے دشمن نے رعایت برتی۔بہرحال وہ دس قبائل جو مشرق کے علاقہ میں لا کر پھیلا دئیے گئے تھے ان کے متعلق بائبل میں تو اتنا ہی لکھا ہوا ہے کہ ایران کے مشرق کے علاقہ میں یہود کے دس قبائل کو پھیلا دیا گیا۔لیکن ہماری تحقیقات سے ثابت ہے کہ یہ علاقے افغانستان اور کشمیر کے تھے اور چونکہ ایک لمبا فاصلہ درمیان میں حائل ہو گیا تھا اور بابلیوں کی کوشش بھی یہی تھی کہ یہ لوگ واپس نہ آئیں۔اس لئے دیر تک ان کا حال چھپا رہا۔مگر تمام یہود انہوں نے مشرق میں نہیں بھیجے بلکہ کچھ لوگ اپنی خدمت کے لیئے انہوں نے بابل اور اس کے ارد گرد رکھ لئے تھے یہ لوگ جو وہاں رہے تھے فارس اور مید کے بادشاہوں کی مدد سے پھر واپس آئے اور انہوں نے یروشلم کی بستیاں دوبارہ بسائیں (انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ سائرس) ان یہودیوں کا قرآ ن کریم میں بھی ذکر آتا ہے۔مگر وہ لوگ جو کشمیر اور افغانستان بھیج دئے گئے تھے ان کا