تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 124
یہ کہتا کہ دیکھو میں مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا تھا یا مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکلا تھا۔تو لوگ کہتے یہ بالکل جھوٹ اور فریب ہے ہم اسے نہیں مان سکتے۔پس مسیح کی یوناہ نبی سے مماثلت اگر پوری ہو سکتی تھی تو اسی طرح کہ وہ یوناہ نبی کی طرح زندہ ہی قبر میں جاتا، زندہ ہی قبر میں رہتا اور زندہ ہی قبر میں سے نکلتا اور پھر واقعہ صلیب کے بعد بنی اسرائیل کے ایک حصہ میں کامیاب تبلیغ کرتا۔لیکن انجیل ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو نشان یوناہ نے لوگوں کو نہیں دکھایا تھا وہ تو مسیح نے لوگوں کو دکھایا اور جو نشان یوناہ نے لوگوں کو دکھایا وہ مسیح نے نہیں دکھایا۔مچھلی کے پیٹ میں زندہ جانے، اس کے پیٹ میں زندہ رہنے اور اس کے پیٹ میں سے زندہ نکلنے کا نشان یوناہ نے نینوہ والوں کو نہیںدکھایا۔مگر انجیل کہتی ہے کہ قبر میں جانے ، قبر میں رہنے اور قبر میں سے نکلنے کا نشان مسیح نے لوگوں کو دکھایا۔پھر بائبل بتاتی ہے کہ یوناہ نے نینوہ والوں کو یہ نشان دکھایا کہ مچھلی کے پیٹ میں سے نکلنے کے بعد اس نے تبلیغ کی اور نینوہ والے اسے ماننے پر مجبور ہوگئے۔لیکن انجیل کہتی ہے کہ مسیح قبر میں سے نکلنے کے بعد غائب ہو گیا اور اس نے کوئی تبلیغ نہیں کی۔گویا جو نشان یوناہ نے دکھایا تھا اور جو اصل نشان تھا وہ تو مسیح نے نہیں دکھایا اور جو نہیں دکھایا تھا وہ مسیح نے دکھایا۔پھر بائبل تو بتاتی ہے کہ یوناہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ گیا ، زندہ رہا ، اور زندہ نکلا۔لیکن مسیحی کہتے ہیں کہ مسیح قبر میں مر کر گیا ، قبر میں تین دن مردہ پڑا رہا اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر باہر نکل آیا۔اگر مسیحیوں کی یہ بات درست ہے تو یوناہ نبی کا نشان مسیح نے نہیں دکھایا اور اگر اس نے یوناہ نبی کا نشان دکھایا تھا اور وہ صلیب پر نہیں مرا۔نہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میںرہا تو کفارہ کا مسئلہ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔کیونکہ کفارہ تب ثابت ہوتا ہے جب یہ مانا جائے کہ مسیح نے صلیب پر لٹک کر لوگوں کے گناہ اٹھا لئے۔اگر وہ زندہ ہی رہا تھا تو ثابت ہوا کہ اس نے کوئی قربانی نہیں دی تھی اور جب قربانی نہیں دی تھی تو کفارہ بھی باطل ہوا۔غرض صلیب کا واقعہ جسے مسیحی پیش کرتے ہیں سر تاپا اس نشان کے خلاف ٹھہرتا ہے جو یوناہ نے دکھایا تھا اور جس کے دکھانے کا مسیح نے اپنی قو م سے وعدہ کیاتھا۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ نتیجہ جو ہم نے یوناہ نبی کی پیشگوئی سے نکالا ہے آیا اس کا ذکر مسیح کی کسی پیشگوئی میں بھی ہے؟ اس نقطہ نگاہ سے جب ہم انجیل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ یہی بات حضرت مسیح نے بھی بیان کی ہے بلکہ مسیح سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں اور جنہوں نے حضرت مسیح کے آنے کی پیشگوئی کی تھی انہوں نے بھی اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے چنانچہ یسعیاہ میں لکھا ہے:۔’’خداوند یہوواہ جو اسرائیل کے تتر بتر کئے ہوئوں کا جمع کرنے والا ہے یوں فرماتا ہے کہ میں