تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 117
دیتے تھے تاکہ اس کا بوجھ ہلکا ہو جائے) لیکن یوناہ جہاز کے اندر پڑا سو رہا تھا (باقی لوگ تو دعائیں کر رہے تھے اور جہاز کا بوجھ ہلکا کر رہے تھے اور یوناہ اندر سو رہے تھے) تب ناخدا اس کے پاس جاکر کہنے لگا تو کیوں پڑا سو رہا ہے اٹھ اپنے معبود کو پکار شاید وہ ہم کو یاد کرے اور ہم ہلاک نہ ہو ں اور انہوں نے آپس میں کہا آئو ہم قرعہ ڈال کر دیکھیں کہ یہ آفت ہم پرکس کے سبب سے آئی۔چنانچہ انہوں نے قرعہ ڈالا اور یوناہ کانام نکلا۔تب انہوں نے اس سے کہا۔تو ہم کو بتا کہ یہ آفت ہم پر کس سبب سے آئی ہے۔تیرا کیا پیشہ ہے اور تو کہاں سے آیا ہے۔تیرا وطن کہاں ہے اور تو کس قوم کا ہے اس نے ان سے کہا میں عبرانی ہوں (ضمنی طور پر ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ بائبل کا یہ بیان غلط ہے یوناہ عبرانی نہیں تھا بلکہ کسی اور قوم کا نبی تھا۔کیونکہ وہ نینوہ والوں کی طرف بھیجا گیا تھا جو کہ اشور کا دارالخلافہ تھا اور وہاں کے لوگ اشور قوم کے تھے۔اشور سے مراد سیریایعنی شام کا علاقہ نہیں بلکہ یہ الگ علاقہ ہے اور شہر بابل کے شمال سے شروع ہو کر آرمینیا کی سرحد سے جا ملتا ہے اور مشرقی طرف اس کی کردستان سے ملتی ہے اور مغربی سمت دجلہ کے مغرب کے علاقہ کے ایک حصہ پر مشتمل ہے۔گویا موجودہ عراق کا ایک حصہ اس میں شامل ہے۔ایک زمانہ میں اس علاقہ میں زبردست حکومت قائم تھی۔اس کا دارالخلافہ پہلے تو اسور تھا جو موصل سے ساٹھ میل جانب شما ل واقعہ تھااور اب اسے قلعات شرجت کہتے ہیں لیکن تیرہ سو سال قبل مسیح اس شہر کو چھوڑ کر نینوہ کو دارالحکومت قرار دیا گیا۔محققین یورپ بھی اس بارہ میں مختلف الخیال ہیں کہ آیا یونس نبی اسرائیلی ہے یا نہیں۔جیوئش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Jonah ) اور خداوند آسمان کے خدا بحر وبر کے خالق سے ڈرتا ہوں۔تب وہ خوف زدہ ہو کر اس سے کہنے لگے تو نے یہ کیا کیا۔کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ وہ خداوند کے حضور سے بھاگا ہے۔اس لئے کہ اس نے خود ان سے کہا تھا تب انہوں نے اس سے پوچھا ہم تجھ سے کیا کریں کہ سمندر ہمارے لئے ساکن ہوجائے کیونکہ سمندر زیادہ طوفانی ہوتا جاتا تھا؟ تب اس نے ان سے کہا مجھ کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دو تو تمہارے لئے سمندر ساکن ہو جائے گا کیونکہ میںجانتا ہوں کہ یہ بڑا طوفان تم پر میرے ہی سبب سے آیا ہے تو بھی ملاحوں نے ڈانڈ چلانے میں بڑی محنت کی کہ کنارہ پر پہنچیں لیکن نہ پہنچ سکے کیونکہ سمندر ان کے خلاف اور بھی زیادہ موجزن ہوتا جاتا تھا۔تب انہوں نے خداوند کے حضور گڑگڑا کر کہا۔اے خداوند ہم تیری منت کرتے ہیں کہ ہم اس آدمی کی جان کے سبب سے ہلاک