تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 116

اس جگہ حضرت مسیح نے خود تشریح کر دی ہے کہ یوناہ نبی کے نشان سے کیا مراد ہے۔آپ کہتے ہیں کہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔مشابہت کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ ہر چیز میں مشابہت ہو۔بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصولی باتوں میں مشابہت ہوگی۔چنانچہ اسی مشابہت کی بناء پر مسیح کہتا ہے کہ جس طرح یوناہ نبی مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات رہا اسی طرح مسیح قبر میں تین دن رات رہے گا۔گویا اس نشان کا مقصد یہ تھا کہ مسیح بھی تین دن رات قبر میںرہے اور یوناہ نبی کی طرح خدا تعالیٰ کی حفاظت میں رہے۔آخر کسی کا مچھلی کے پیٹ میں چلے جانا تو کوئی معجزہ نہیں۔ہزاروں لوگ مچھلی کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں اور کوئی نہیں کہتاکہ یہ معجزہ ہوا ہے پھر یوناہ نبی کا کیا معجزہ تھا؟ یوناہ نبی کا معجزہ یہ تھا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں خدا تعالیٰ کی حفاظت میں رہا۔تاکہ اس کی قوم کے لئے اس کا وجود خدا تعالیٰ کا ایک نشان ثابت ہو۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ یوناہ نبی کس طرح مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات رہا۔اس کے لئے ہم یوناہ نبی کی کتاب کو دیکھتے ہیں اس میں لکھا ہے:۔’’ خداوند کا کلام یوناہ بن متی پر نازل ہوا۔کہ اٹھ اس بڑے شہر نینوہ کو جا اور اس کے خلاف منادی کر کیونکہ ان کی شرارت میرے حضور پہنچی ہے (نینوہ ایک بڑا شہر تھا خدا تعالیٰ نے یوناہ سے کہا کہ جائو اور ان لوگوں کو سمجھائو) لیکن یوناہ خدا وند کے حضور سے ترسیس کو بھاگا اور یافا میں پہنچا اور وہاں اسے ترسیس کوجانے والا جہاز ملا۔اور وہ کرایہ دے کر اس میں سوار ہوا تا کہ خداوند کے حضور سے ترسیس کو اہل جہاز کے ساتھ جائے (یعنی بجائے اس کے کہ وہ اور نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے اور نینوہ والوں کو تبلیغ کرتے ان کے دل میں خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے پہلے اس کی طرف سے عذاب کی خبریں ملتی ہیں او رپھر لوگوں کے تضرع پر وہ ان کو معاف کر دیتا ہے اور لوگ نبیوں کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا۔اس لئے میں نینوہ میں جاتا ہی نہیں۔چنانچہ وہ ترسیس جانے کے لئے جہاز میں سوار ہو گئے) لیکن خداوند نے سمندر پر بڑی آندھی بھیجی اور سمندر میں سخت طوفان برپا ہوا اور اندیشہ تھا کہ جہازتباہ ہو جائے۔تب ملاح ہراساں ہوئے اور ہر ایک نے اپنے دیوتا کو پکارا اور وہ اجناس جو جہاز میں تھیں سمندر میں ڈال دیں تاکہ اسے ہلکا کریں (پہلے زمانہ میں بادبانی جہاد ہوتے تھے جو زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے اس لئے جب طوفان آتا اور جہاز ڈوبنے کا خطرہ ہوتا تو وہ اپنے سامان کا کچھ حصہ سمندر میںپھینک