تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 108

ہی نہیں بلکہ بڑا چالاک اور فریبی بھی تھا گویا اس کا الزام بڑھ جائے گا اور دنیا اسے عادل نہیں کہے گی بلکہ کہے گی کہ وہ بڑا ظالم تھا بڑا چالاک اور فریبی تھا کہ اس نے اپنے بیٹے سے ڈیڑھ روپیہ لے کر یہ فیصلہ کر دیا کہ لوگوں کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ ادا ہو گیا ہے اسی طرح کفارہ کی جو صورت بتائی جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ پر الزام کو بڑھانے والی ہے گھٹانے والی نہیں۔اور اس قسم کے کھیل سے اس کا عادل ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ غیر عادل ہونے کے علاوہ چالاک اور دھوکے باز ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔اگر ایسا ہی کرنا تھا تو پھر ڈیڑھ دن بھی اسے دوزخ میں کیوں رکھا؟ اگر کہو کہ انسان اور خدا میں بے انداز فرق ہے چونکہ انسان کی حالت اور ہے اور خدا تعالیٰ کی حالت اور ہے اس لئے انسان کو جتنا عذاب ابدی جہنم میں ملے گا وہی عذاب خدا تعالیٰ کے بیٹے کو ڈیڑھ دن میں مل گیا ہے اس وجہ سے بنی نوع انسان کی ابدی سزا کے مقابلہ میں ابن اللہ کا صرف ڈیڑھ دن کے لئے جہنم میں جانا کوئی قابل تعجب امر نہیں۔جوعذاب ان کو ابدیت میں ملنا تھا وہی مسیح کو ڈیڑھ دن میں مل گیا۔یہ بھی ایک جواب ہے جو دیا جا سکتا ہے۔اس کا ردّیہ ہے کہ جب خدا اور انسان میں بے انداز فرق ہے اور عیسائی بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں تو بے انداز فرق کے لحاظ سے یہ انسانی طاقت میں ہی نہیں کہ وہ خدا اور اس کی مخلوق کے باہمی فرق کو سمجھ سکے بے انداز چیز انسانی اندازوں سے باہر ہوتی ہے اور اندازہ ہمیشہ اسی چیز کا کیا جاتا ہے جو محدود ہو اور جس کا سمجھنا انسانی طاقتوں کے لحاظ سے ممکن ہو۔اب بے انداز فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ارب ستر کروڑ انسانوں کے مجموعی عذاب کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ڈیڑھ دن کے لئے دوزخ میںچلا گیااور انسانوں کا کفارہ ہو گیا۔دوسرے الفاظ میں یہ کہنا ہے کہ انہوں نے اندازہ لگالیا ہے کہ انسانی عذاب کی جو مقدار ہے وہ خدا تعالیٰ کو کتنے عرصہ میں مل سکتی ہے حالانکہ جب انسان اور خدا میں ہے ہی بے انداز فرق تو وہ یہ اندازہ کس طرح لگا سکتے ہیں کہ ڈیڑھ دن میں تمام عذاب خدا تعالیٰ کو پہنچ گیا ہے ایسی صورت میں تو اسے ایک منٹ کے لئے بھی دوزخ میں رکھنا درست نہ تھا بلکہ ایک سکینڈ کا ہزارواں حصہ بھی اس کے لئے کافی سے زیادہ تھا کیونکہ یہاں مقابلہ محدود طاقتوں والے انسانوں اور غیر محدو د طاقتوں والے خدا کا ہے اور غیر محدود طاقت والے خدا کا اندازہ محدود طاقت والوں کے ساتھ کرنا عقل کے بالکل خلاف ہے پھر تو ایک سکینڈ کی تعیین بھی اس کے لئے نہیں کی جا سکتی۔بلکہ بے انداز فرق کے لحاظ سے تو جتنی دیر آنکھ جھپکنے میں لگتی ہے اتنی دیر کا عذاب بھی خدا تعالیٰ کے لئے ناممکن ہے۔ا یسی صورت میں ڈیڑھ دن کا اندازہ انہوں نے کہاں سے نکال لیا اور اپنی محدود طاقتوں کے ساتھ غیر محدو د طاقتوں والے خدا کے متعلق یہ کس طرح سمجھ لیا کہ اس نے ڈیڑھ دن میں وہ عذاب برداشت کر لیا جو انسان اربوں سال میں برداشت کر سکتا تھا۔