تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 80
معاملہ میں خوب محنت اورکوشش سے کام لیا۔جَھَدَ دابَّتَہٗ:بلغَ جَھْدَھَا وحَـمَّلَھَا فَوْقَ طَاقَتِھا۔جانورپر بہت بھاری بوجھ لادا۔اَلْجَھْدُ مصدرہے نیز اس کے معنے ہیں اَلطَّاقَۃُ۔طاقت۔یُقَالُ ’’اَفْرَغَ جَھْدَہٗ‘‘اَیْ طَاقَتَہٗ چنانچہ اَفْرَغَ جَھْدَہُ کافقرہ بول کر جھد سے مراد طاقت لیتے ہیں۔اَلْمَشَقَّۃُ۔مشقت (اقرب) اَقْسَمُوْابِاللہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ۔اَیْ بَالَغُوْافی الْیَمِیْنِ وَاجْتَھَدُوْا یعنی انہوںنے بڑی زوردار قسمیں کھائیں (اقرب) لَایَبْعَثُ: بَعَثَ سے مضارع یَبْعَثُ آتاہے اورلَایَبْعَثُ مضارع منفی ہے۔بعث کی تشریح کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۳۷۔یُبْعَثُوْنَ بَعَثَ سے جمع مذکر غائب مجہول کاصیغہ ہے۔اوربَعَثَہٗ(یَبْعَثُ بَعْثًا)کے معنے ہیں اَرْسَلَہٗ اس کو بھیجا۔بَعَثَہُ بَعْثًا: اَثَارَہٗ وَھَیَّجَہٗ۔اس کو اُٹھایااورجوش دلایا۔بَعَثَ اللہُ الْمَوْتٰی:اَحْیَاھُمْ اللہ نے مردوں کو زندہ کیا۔بَعَثَہٗ عَلَی الشَّیْءِ : حَمَلَہٗ عَلٰی فِعْلِہِ۔اس کو کسی کام کے کرنے پر اُکسایا۔اَلْبَعْثُ:النَّشْرُ اُٹھانا۔(اقرب) تفسیر۔کفار کا دلائل سے عاجز آکر قسمیں کھانا فرمایایہ لوگ جب دلائل سے عاجز آجاتے ہیں توقسمیں کھانے لگتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں تاکہ اپنے اتباع کو عذاب سے محفوظ رہنے کایقین دلائیں۔اورسچ کی جستجو سے غافل کردیں۔کفار کی قسمیں کھانے کی وجہ اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کفار قسمیں کیوں کھاتے ہیں ایسی قسموں کاکیا فائدہ تھا۔ا س کا جواب یہ ہے کہ بعض لوگ کمزورطبیعت کے ہوتے ہیں وہ خودفیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔آئمۃ الکفر کا قسمیں کھا کر عوام کو ان کے سابق عقیدہ پر قائم رکھنا جب سچے مذہب کے دلائل سن کر ان کے دل متذبذب ہوجاتے ہیںتوان کے سردار اورلیڈر قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنے سابق عقیدہ پر پکا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور چونکہ ان لوگوں میں عزم نہیں ہوتا۔کچھ ان میں سے ان قسموں سے مرعوب ہوکر پھر اپنے پرانے خیالات کی طرف عود کرجاتے ہیں۔پس یہ بھی لوگوں کو ہدایت سے محروم کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو کفار کے سردار ہمیشہ سے استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔عوام الناس اس امر کو نہیں سمجھتے کہ قسم تواس شخص کی قابل اعتبار ہوتی ہے جو نیک ہو اورصرف مزید زوردینے کے لئے ہوتی ہے۔ورنہ جھوٹے لوگ جس طرح بغیر قسم کے جھوٹ بولتے ہیں قسم کے ساتھ بھی جھوٹ بولتے ہیں۔یاپھرقسم شہادت کافائد ہ دیتی ہے یعنی جن امور میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹی قسم پر اس دنیا میں گرفت کرنے کافیصلہ کیا ہو۔ان کے متعلق جھوٹی قسم کھانے والا اگر عذاب سے محفوظ رہے تویہ اس کے