تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 76

طریق کو غلط سمجھتا ہے توہمیں اورہمارے باپ دادوں کو اس سے ہٹاکیوں نہیں دیتااورشرک کی توفیق ہم سے کیوں نہیں چھین لیتا۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتاہے کہ اس کا ذریعہ ایک ہی ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ جن انبیاء کو بھیجتا انہیں جبر کرنے کی تلقین کرتا۔لیکن کافر بھی توبعض نبیوں کومانتے ہیں کیا وہ کو ئی نبی پیش کرسکتے ہیں جس نے جبر سے کام لیا ہو۔حالانکہ ان کے مخالفوںکو یہ بھی غلطی پر سمجھتے ہیں۔پس اگران کے مسلّمہ نبیوں (مثلاً حضرت ابراہیم حضرت لوط علیہما السلام)نے جبر سے کام نہیں لیااورخدا تعالیٰ نے انہیں یہ توفیق نہ دی کہ وہ اپنے مخالفوںکو زبردستی منوالیتے۔تو اب اس امر کی کیوں توقع رکھتے ہیں جس طرح ہمیشہ سے انبیاء محض تبلیغ سے کام لیتے آئے ہیں۔اب بھی اسی طرح ہوگا۔تعجب ہے اس آیت کی موجودگی میں بعض مسلمان دین میں جبر کوجائز سمجھتے ہیں (مرتد کی سزا اسلامی قانون میں مصنف ابوالاعلیٰ مودودی ص ۵۰)حالانکہ یہ امر قرآن کریم کی متعددآیات کے خلاف ہے۔وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اورہم نے یقیناً ہر قوم میں (کوئی نہ کوئی)رسول (یہ حکم دےکر )بھیجا ہے کہ تم اللہ (تعالیٰ) کی عبادت کرو۔اورحد اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ سے بڑھنے والے سرکش سے کنار ہ کش رہو۔اس پر ان میں سے بعض (تو)ایسے (اچھے ثابت)ہوئے کہ انہیں مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا اللہ (تعالیٰ)نے ہدایت دی اوربعض ایسے کہ ان پر ہلاکت واجب ہوگئی۔پس تم (تمام)ملک میں پھر و اور دیکھو کہ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۠۰۰۳۷ (انبیاء کو )جھٹلانے والوں کاانجام کیساہواتھا۔حَلّ لُغَات۔اِجْتَنِبُوا اِجْتَنِبُوااِجْتَنَبَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِجْتَنَبَہٗ کے معنے ہیں بَعُدَ عَنہٗ۔اس سے دور ہوگیا۔(اقرب) الطَّاغُوْت:الطّاغُوتُ کلُّ مُتَعَدٍّ۔حد سے بڑھنے والا۔کُلُّ رأسٍ ضَلَالٍ۔ہرشخص جو گمراہی کا سردار