تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 75
الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۰۰۳۶ (سچائی کے دشمن )تھے انہوں نے (بھی )ایسا ہی کیاتھا۔بھلا(کیا یہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ)رسولوں پر(خدا کاپیغام) پہنچادینے کے سوا(اور)کیاذمہ واری ہے۔تفسیر۔اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سےوَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ بیان ہوچکا ہے۔یعنی کفار یہ نہ خیال کریں کہ کج راستے کیوں بنے ہیں۔یہ راستے انہوں نے خود بنائے ہیں اللہ تعالیٰ نے نہیں بنائے۔اللہ تعالیٰ توجبر سے کام نہیں لیتااگر لیتاتوہدایت دیتا۔اب خودکفار کے منہ سے وہی اعتراض نقل کیا گیا ہے۔فرماتا ہے کافر کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم یا ہمارے باپ دادے شرک نہ کرتے۔پس جب اس نے روکا نہیں تومعلوم ہواکہ وہ ہمارے شرک کو ناپسند نہیں کرتا۔قرآنی دلائل سے عاجز آکر کفار کے غیر معقول اعتراضات جوشخص یاجماعت بھی غلط عقائد اختیار کرے اسے دلائل کے سامنے دب کر غیر معقول رویہ ہی اختیار کرناپڑتا ہے۔اوراس کے مقا بلہ کی بنیاد کسی مقر رہ اصل پر نہیں ہوتی بلکہ اسے حملہ کے مطابق جگہ بدلنی پڑتی ہے۔رکوع تین کے آخر میں بتایاگیاتھا کہ کفارتنگ آکر کہتے ہیں کہ بڑی اعلیٰ تعلیم لئے پھرتے ہو آخر یہ تعلیم پہلوں کی کتب سے نقل کی ہوئی ہے اورہے کیا ؟ اس کے دوجواب دیئے گئے تھے اول تویہ کہ یہ اعتراض محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ہے ورنہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔یعنی اگر نقل بھی ہو تو بھی اگر سچی بات ہے تومانتے کیوں نہیں۔دوسراجواب یہ دیاتھا کہ اگریہ نقل ہے توتم بھی توپہلے انبیاء کے مخالفین کی نقل کررہے ہو۔وہ بھی ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھےمگر نہ وہ کامیاب ہوسکے نہ تم کامیاب ہوسکتے ہو۔یہ عملی ثبوت ان کے اعترا ضات کے بوداہونے کادیا کیونکہ اگرمعقول اعتراض ہوتااورانبیاء کی تعلیم واقع میں محض نقل ہوتی تودنیا اپنے پہلے مذاہب کو چھو ڑکر انہیں اختیارکیوں کرتی۔اس کے بعد کفار اورمسلمانوں سے جو الگ الگ قسم کے سلوک ہونے والے تھے ان کا ذکر کیا ہے۔کفار کا اپنے اعتراضوں کو غیر مؤثر پا کر پہلو بدلنا اس کے بعد پھر کفار کے اعتراضوں کی طرف رجوع کیا گیا ہے اوربتایا ہے کہ جب کفار اپنے پہلے اعتراض کا جواب سنتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ یہ اعتراض مؤثر نہیں ہوسکتا تووہ پھر پہلو بدلتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سزاکیوں دینے لگا۔کیاخدا تعالیٰ قادر نہیں۔پھر اگروہ ہمارے