تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 615

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىِٕهٖ فَحَبِطَتْ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے نشانوں کا اوراس سے ملنے کاانکا رکردیاہے۔اس لئے ان کے (تمام ) اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا۰۰۱۰۶ اعمال گرکر(اسی دنیامیں)رہ گئے ہیں۔چنانچہ قیامت کے دن ہم انہیں کچھ بھی وقعت نہیں دیں گے۔تفسیر۔یعنی ان کی بنائی ہوئی چیزوںکانام و نشان باقی نہ رہے گااورہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔کیونکہ ان کے تمام اعمال دنیا کے لئے تھے نہ کہ آخرت کے لئے۔ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِيْ یہ ان کابدلہ یعنی جہنم اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے کفر(کاطریق )اختیارکیا اور میرے نشانوںاور میرے رسولوں وَرُسُلِيْ هُزُوًا۰۰۱۰۷ کو(اپنی )ہنسی کا نشانہ بنالیا۔تفسیر۔ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ۔یعنی ان کے کاموں کا اُخروی بدلہ نہ ملنا کوئی سزانہیں بلکہ ان کی مناسب جزاہے۔جب وہ خدا تعالیٰ کی خاطرکوئی کام نہ کرتے تھے تواخروی جزاء یادینی بدلہ کی امید انہیں کس طرح ہوسکتی ہے۔جَھَنَّمُ جَزَاؤُھُمْ کاعطف بیان ہے اورمراد یہ ہے کہ جزاء سے ہماری مراد جہنم ہے اوریہ جزاء ان کے کفراوراللہ تعالیٰ کے نشانات اوراس کے رسولوں سے ہنسی ٹھٹھے کی وجہ سے ہو گی۔یعنی ان قوموں کی نگاہ میں الٰہی کلام اوراس کے رسولوں کی کوئی عزت نہ ہوگی ایک انسان کوخدابناکر سب نبیوں پر ہنسی اور تمسخر کریں گے۔چنانچہ دیکھ لو کہ مسیحی لوگ مسیح کوخدا کابیٹاقرار دینے کی وجہ سے سب انبیاء کی سخت ہتک کرتے ہیں اوران کے وجود کولغواور فضول قرار دیتے ہیں اورشریعت کولعنت بتاتے ہیں۔