تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 610
قافلوں کے آنے جانے کاراستہ کھلارہے۔پس مضبوط در واز ے بنانے کے لئے لوہے کی اوران کو زنگ سے بچانے کے لئے تانبے کی ضرورت تھی جوان سے طلب کیا گیا۔فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا۰۰۹۸ پس (جب وہ دیوار تیار ہوگئی تو)و ہ(یعنی یاجوج ماجو ج)اس پر چڑھ نہ سکے اورنہ اس میں کوئی سوراخ کرسکے۔تفسیر۔یعنی جب دیوار بن گئی۔تویاجوج وماجو ج کے حملے رک گئے۔وہ دیوار اس قدراونچی تھی کہ وہ اس پرچڑھ بھی نہیں سکتے تھے اوراتنی موٹی تھی کہ اس میں نقب بھی نہیں لگاسکتے تھے۔یہ مراد نہیں کہ دیواراس قسم کی تھی کہ اس پرچڑھنا یااس میں نقب لگانا ناممکن تھا۔بلکہ چونکہ اس میں بُرج اورقلعے تعمیر کئے گئے تھے جہاں سپاہی پہرہ کے لئے مقرررہتے تھے اس لئے دیوار پر چڑھنایانقب لگاناناممکن تھا۔کیونکہ پہرہ دارہراس شخص کو جو چڑھنے کی کوشش کرے یانقب لگائے مارسکتے تھے۔ظاہر ہے کہ جو دیوارپر چڑھنے میں یانقب لگانے میں مشغول ہو وہ لڑ نہیں سکتا۔اودیوارکے اوپر بیٹھے ہوئے سپاہی اس کاآسانی سے مقابلہ کرسکتے ہیں اوراسے روک سکتے ہیں۔قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ (اس پر )اس نے کہا (کہ)یہ(کام محض)میرے رب کے خاص احسان سے(ہوا)ہے۔پھر جب (عالمگیر وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ عذاب کے متعلق ) میرے رب کاوعدہ (پوراہونے پر)آئے گاتووہ اسے(توڑکر)ایک زمین سے پیوست شدہ رَبِّيْ حَقًّاؕ۰۰۹۹ ٹیلابنادے گااور میرے رب کاوعدہ (ضرور)پوراہوکر رہنے والا ہے۔تفسیر۔مومنوں کو تکبر سے بچنے کی نصیحت یہ فقر ہ اس کے ایمان کے اظہارکے لئے بیان