تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 583

عواقب سے بے پرواہوکرکام کرنے کی طاقت پیداکردیتے ہیں۔لیکن یہ تینوں چیزیں جہاں انسان کی کامیابی کے لئے ضروری ہیں وہاںان کاحدود کے اندررکھنابھی ضروری ہے۔اگران کوآزادچھو ڑدیاجائے توانسانی روح اور جسم طغیان او رکفرمیں مبتلاہوجاتے ہیں۔کسی چیز کے جوش کو کم کردینا عربی زبان میں قتل کہلاتاہے۔چنانچہ عربی کامحاورہ ہے قَتَلَ الشَّرابَ :مَزَّجَہٗ بِالْمَآءِ یعنی شراب میں پانی ملاکر اس کے جوش کوکم کردیا (اقرب) قَتَلَ الْجُوْ عَ وَالْبَرْدَوَنَحْوَذَالِکَ :کَسَّرَ شِدَّتَہٗ یعنی جب قَتَلَ الْجُوعَ وَالْبَرَدَ وغیر ہ الفاظ بولیں تومراد یہ ہوتی ہے کہ بھوک سردی وغیرہ کی تیزی کوکم کردیا (اقرب) قَتَلَ غَلِیْلَہُ: سَقَاہُ فَزَالَ غَلِیْلُہُ یعنے قَتَلَ غَلِیْلَہُ کے معنے ہیں اسے پانی پلاکر پیاس کو بجھادیا (اقرب)غرض قتل کالفظ صرف جاندارکے لئے ہی نہیں بولاجاتا۔بلکہ جذبات اوراحساسات کے لئے بھی بولاجاتا ہے اوراس سے مراد ان جذبات اوراحساسات کی تیزی کو دور کرنا ہوتاہے۔عبداللہ کی تاویل کا مطلب پس عبداللہ کی تاویل کایہ مطلب ہواکہ حرکت قوت اورجہالت کے ماں باپ تومومن ہیں یعنی ان میں احکام الٰہی کے ماننے کامادہ ہے ان کو اعلیٰ سے اعلی اعما ل کی قوت بخشی گئی ہے اوران قوتوں کوعمل میں لانے کے لئے حرکت قوت اورجہالت کی طاقتیں ان میں سے پیداکی گئی ہیں۔یعنی ایک توروح اوردماغ انسانی میں آگے بڑھنے کاشدید مادہ ہے دوسرے بڑے بڑے کام کرنے کی طاقت ہے تیسرے بڑے بڑے خطرات برداشت کرنے کی ہمت ہے ان تینوںقوتوں سے جوروح اور جسم کے امتزاج سے انسان میں پیداہوتی ہیں وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرسکتاہے۔لیکن اگران قوتوں کو بے لگام چھوڑ دیاجائے تویہی قوتیں انسانی روح اورانسانی جسم کو نافرمانی اورکفرکی طرف لے جاتی ہیں اوروہ ہلاک ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے پسند نہ فرمایا کہ انسانی روح اورانسانی جسم جیسے اعلی اورکارآمد وجودوں کو طغیانی اورکفر میں مبتلاہونے دے۔پس اس نے جلوئہ محمدی کے ذریعہ سے ان تین طاقتوں کوقتل کروادیا۔یعنی شریعت کے احکام کے ذریعہ سے ان کوسمودیا اوران کی شدت کوکم کردیاتاکہ اس کے بعد جوجذبات انسان میں کام کریں وہ نیکی کی قیو دکے ماتحت اوراس کے حلقہ میں کام کریں۔