تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 582
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے حکم سے اپنی امت کو حکم دیاہے کہ وہ اپنی سفینہ میں سوراخ کردیں یعنی ان کے مال دین کی خدمت اوربنی نوع انسان کی خدمت میں خرچ ہوتے رہیں تاکہ دنیا کی محبت ان کے دلوں پر قابو نہ پالے اوران کے اموال خداکے لئے ہونے کی بجائے ظالم دنیاکے لئے نہ ہوجائیں۔آنحضرت ؐ کو دنیا ایک عورت کی شکل میں دکھائے جانے میں حکمت اس جگہ یہ لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواسراء میں دنیا ایک عورت کی شکل میں دکھائی گئی ہے۔لیکن موسیٰ علیہ السلام کو وہی دنیا ا ن کےا سراء میں ایک ظالم بادشاہ کی شکل میںدکھائی گئی ہے۔اس میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتاہے کہ دنیاکاحملہ امت محمدیہ پر بہت کمزورہوگا۔اوروہ ایک بڑھیا کی طاقت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کرے گی۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت پر اس کاحملہ شدیدہوگا اس لئے ان کی امت کو مدنظررکھتے ہوئے دنیا انہیں ایک ظالم بادشاہ کی شکل میں دکھائی گئی۔وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِيْنَاۤ اَنْ اوراس لڑکے (کے واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس )کے ماں باپ (دونوں)مومن تھے (اوروہ ایمان کادشمن تھا)اس يُّرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَّ كُفْرًاۚ۰۰۸۱ لئے ہم نے ناپسندکیا کہ وہ (اپنی )سرکشی اورکفر سے انہیں ایذاپہنچائے۔تفسیر۔میں اوپر بتاآیاہو ںکہغُلَامٌ کی تعبیر اَلْحَرَکَۃِ وَالْقُوَّۃِ وَالْجَہْلِ ہوتی ہے چنانچہ عبداللہ(یعنی اللہ کے بندے)نے جوتشریح فرمائی ہے وہ بھی اس کے مطابق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ غلام دونیک ماں باپ کابچہ تھا۔پس ہم ڈرے کہ اگر اسے زندہ رہنے دیاگیاتووہ اپنے ماں باپ کے لئے سرکشی اورکفرکاموجب ہوگا۔میں یہ توبتاچکاہوں کہ سرکش اولاد کوقتل کرنا بغیر کسی جرم کے ناجائزہے پس یہ نظارہ بھی تعبیر طلب ہے اورجب کہ غلام کی تعبیر حرکت قوۃ اورجہالت کی ہے تولازماً اس کے ماں باپ بھی اسی قسم کے ہونے چاہئیں کیونکہ حرکت قوت اورجہالت معنوی اشیاء ہیں مادی نہیں ہیں۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ حرکت قوت اورجہالت کہاں سے پیداہوتی ہیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ یہ اشیاء انسانی ر وح اور جسم سے پیداہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے روح اور جسم میں جوزوجین یعنی میاں اوربیوی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ مل کرانسان میں حرکت قوت اورجہالت یعنی