تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 579

اجرت نہ لینے پر اعتراض کرنے سے یہود کی تجارتی حرص کی طرف اشارہ ہے اورموسیٰ علیہ السلا م نے جوکہا کہ اجر کیوں نہ لے لیا۔اس سے مراد یہ ہے کہ موسوی قوم میں تجارتی حرص بہت بڑھ جائے گی اوروہ ہراک کام کو اس کے دنیوی فائدہ کاانداز ہ لگاکر کریں گے اورخالصۃً للہ کام کرنا ان کے لئے مشکل ہوگا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موسوی سلسلہ کی آخر ی کڑی یعنی مسیحیت کایہ حال ہے کہ ان کی تعلیم بھی دنیوی اغراض سے ہوتی ہے۔ان کی ہمدردی بھی دنیوی اغراض سے ہوتی ہے۔حتی کہ وہ تبلیغ کرتے ہیں تواس میں بھی سیاسی اوردنیوی فوائد مدنظر ہوتے ہیں خالصۃً للہ کام جس میں کوئی دنیاوی خیال مدنظر نہ ہو۔ان میں قریباً مفقود ہے۔دعوت سے انکار میں یہود کے حضرت موسیٰ سے عدم تعاون کی طرف اشارہ ہے یہ جو فرمایاکہ اہل کتا ب سے اپنے کاموں میں تعاو ن کی خواہش کی توانہوں نے انکا رکردیا۔اس کی مثال حضرت موسیٰ کی زندگی میں تویہ موجود ہے کہ جب وہ اپنی قوم کو کنعان کاملک دیئے جانے کاوعدہ دے کر مصر سے لائے اور کئی چھوٹی اقوام سے جنگیں ہونے کے بعد ان کو اہل کنعان پر حملہ کرنے کاحکم دیا توانہوں نے حضرت موسیٰ کاساتھ دینے سے صاف انکار کردیا۔چنانچہ قرآن کریم میں آتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کے جواب میں انہوں نے کہا۔قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ (المائدۃ :۲۵)یعنی جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اب وقت آگیاہے کہ دشمن پر حملہ کرکے موعود ملک کو لیاجائے توانہوں نے جواب دیاکہ وعدہ یاخدا کاتھایاتمہاراتھا ہم اس وعد ہ کے پوراکرنے کے لئے کیوں اپنی جانیں گنوائیں۔اے موسیٰ تم اور تمہاراخداجاکر لڑو۔اوراپنے وعدہ کو پوراکرو۔ہم تواپنی جگہ سے نہ ہلیں گے ہاںجب آپ دونوں ا س ملک کوفتح کرلیں گے توہم بھی ملک میں داخل ہوجائیں گے اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قو م نے عین اس وقت جب اللہ تعالیٰ کاوعدہ پوراہونے کو تھا ایک لغو عذر کی بناء پر حضرت موسیٰ ؑ سے تعاون کرنے سے انکار کردیا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے بعض وعدے اس کے بندوں کے ذریعہ سے پورے کرائے جاتے ہیںاوربندوں کافرض ہوتاہے کہ اس قسم کے وعدوں کے پوراکرانے میں انبیاء سے تعاون کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عدم تعاون کی مثال قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـًٔا وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (آل عمران:۶۵)یعنے اے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود ونصاریٰ کویہ دعوت دے کہ آئواپنی ضدیں چھوڑ کر ایک بات میں توہم سے مل کرکام کرو اوروہ یہ کہ ہم سب مل کرتوحید کوقائم