تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 577

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِيْ١ۚ قَدْ اس نے کہا(کہ)اگر اس کے بعد میں نے کسی بات کے متعلق آپ سے پوچھا تو(بیشک)آپ مجھے اپنے ساتھ نہ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّيْ عُذْرًا۰۰۷۷ رکھئے گا (اس صورت میں)آ پ یقیناً میر ی طر ف سے معذور سمجھے جانے کی حد تک پہنچ چکے ہوں گے۔تفسیر۔یعنی اب کی دفعہ جانے دواور تعلق نہ توڑو۔پھر ایسا ہی کیاتوتعلق توڑ دینا۔اس میں بھی ا س طرف اشارہ ہے کہ یہود اورنصاریٰ بار بار مسلمانوں سے معاہدات کریں گے لیکن پھر ان کوتوڑدیں گے اوروہ عداوت جو انہیں اسلام سے ہے ان پر غالب آجائے گی۔فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهْلَ قَرْيَةِ ا۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا پھروہ (وہاں سے بھی ) چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی کے لوگوںکے پاس پہنچے تواس (بستی )کے فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِيْهَا جِدَارًا يُّرِيْدُ اَنْ باشندوںسے انہوںنے کھانامانگامگرانہوں نے انہیں (اپنے)مہمان بنانے سے انکار کردیا پھر انہوں نے اس يَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ (بستی)میں ایک ایسی دیوار پائی جوگرنے کوتھی۔اس (خداکے بندہ)نے اسے درست کردیا (اس پر )اس نے اَجْرًا۰۰۷۸ (یعنی موسیٰ نے )کہا(کہ )اگرآپ چاہتے تویقیناً اس کی کچھ (نہ کچھ)اجرت لے سکتے تھے۔تفسیر۔اہل قریہ کے ضیافت سے انکار کی تعبیر اَهْلَ قَرْيَةِسے مراد قوم ہے کیونکہ قوم کوجب دکھایاجاتاہے گائوں کی شکل میں دکھایاجاتاہے اورضیافت کی تعبیر تعاون ہوتی ہے لکھاہے ضَیَافَۃٌ خواب میں