تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 571
واقعات میں ہی مشابہت نہیں بلکہ دونوں کے اسراء میں جوواقعات دکھائے گئے ہیں۔ان کی تعبیر بھی وہی ہے۔اورصرف تمثیلی زبان میں فرق ہے ورنہ حقیقت ایک ہی ہے۔اورہونابھی یہی چاہیے تھا کیونکہ موسوی اسراء میں محمدی ظہورکی خبر د ی گئی تھی۔پس ضروری تھا کہ محمدی اسراء کے واقعات کی طرف اشارہ کیاجاتا۔مجھے یاد نہیں کہ حضرت مولوی صاحب سفینہ کے کیامعنے کیاکرتے تھے۔میں جوا س کے معنے کرتاہوں وہ مال کے ہیں۔علم تعبیرالرؤیامیں سفینہ کی بہت سی تعبیریں لکھی ہیں۔اوران میںسے ایک تعبیر مال ہے(تعطیر الانام زیر لفظ سفینۃ ) میرے نزدیک اس کشف میںیہی تعبیرمراد ہے اورقرآن کریم بھی اسی کی تصدیق کرتاہے کیونکہ قرآن کریم میں آتاہے رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۔(بنی اسرائیل :۶۷)یعنی تمہارا رب وہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندر میں کشتیاںچلائی ہیں تاکہ تم اللہ کے فضل کویعنی مال ودولت کوحاصل کرو۔وہ تم پر بہت مہربان ہے۔پس میر ے نزدیک سفینہ سے مراد دنیاوی مال ہیں۔اورکشتی میں دونوں کے سوار ہونے سے مرا د یہ ہے کہ دونوں کی امتوں پر ایک وقت ایساآئے گاکہ انہیں دنیو ی مال بافراغت ملے گا۔آگے لکھا ہے جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے توا س ساتھی نے کشتی کوپھاڑ دیا۔خَرَقَ الثَّوْبَ کے معنے ہوتے ہیں اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔خَرَقَھَا کے معنے ہوئے۔اس کے تختے نکال کرکشتی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یادوسرے لفظوں میں ان کی قوم نے اعتراض کیا کہ کیا تیرامنشاء یہ ہے کہ کشتی کے سوار غرق ہوجائیں۔تونے یہ بہت بُراکام کیا ہے۔خرق سفینہ سے مراد میرے نزدیک خرق سفینہ سے مراد یہ ہے۔کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی دنیاکوبہت سے شرعی احکام سے چھید ڈالا ہے۔مثلاً اول زکوٰ ۃ کاحکم دیاہے۔جس سے مال کم ہوتاہے پھر صدقات کاحکم دیاہے پھر سود سے منع کرکے دولت کونقصان پہنچایاہے۔پھرورثہ کاحکم دے کرمال کوتقسیم کردیاہے۔اوردولت کو بڑھنے سے روک دیا ہے۔گویا دنیا داروں کی نگاہوں میں اپنی قوم کی دنیاوی زندگی تبا ہ کردی ہے اورنیکو کاروں کی نگہ میں قوم کو دنیا کی محبت کے بداثرات سے اورقوم کو امراء کی غلامی سے بچالیا ہے۔یہ تعلیم موسوی سلسلہ کے لوگوں پر سخت گراں گزرتی ہے یہود پر بھی اورنصاریٰ پربھی۔کیونکہ گونصاریٰ منہ سے تویہی کہتے ہیں کہ سوئی کے ناکہ میں اونٹ کاگزرجاناآسان ہے لیکن دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا بہت مشکل ہے(مرقس باب۱۰ آیت ۲۵)لیکن عمل ان کایہ ہے کہ ان کے ممالک کے سب قوانین دولت مندوں کے اموال بڑھانے میں ممدہیں۔