تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 50
ہو سکتا ہے۔یہ اعتراض بالکل درست ہے۔اگر اس آیت میں طاقت کا اظہار مقصود ہوتا توضرور یہی کہا جا تاکہ کیا جو نہیں پیداکرتا وہ پیداکر نےوالے کے برابرہوسکتا ہے۔مگراس جگہ یہ مراد ہی نہیں۔علامہ زمخشری اس سوال کو بیان کر کے اس کایہ جواب دیتے ہیںکہ مشرک خدا تعالیٰ کی صفات غیراللہ کودے کر گویا اللہ تعالیٰ کوبھی ایک مخلوق قراردیتے تھے۔اس لئے یہ فرمایاکہ اس طرح خدا تعالیٰ پر الزام لگتا ہے تمہارے جھوٹے معبودوں کا درجہ تونہیں بڑھتا۔خدا تعالیٰ کا ہی درجہ گھٹاناپڑتا ہے مگر کیا خدا تعالیٰ ان ادنیٰ وجودوں کے برابر ہو سکتا ہے۔میرے نزدیک یہ جواب اس قدر معقو ل نہیں جیسا کہ اعتراض جو انہوں نے اوپر اٹھایا ہے۔آیت اَفَمَنْ يَّخْلُقُ میں اس کی ترتیب کے متعلق مشکل کا حل میرے نزدیک اس سوال کا جواب اس ترتیب کو مدنظررکھ کردیاجاسکتاہے جو میں نے گذشتہ آیات میں بتائی ہے۔اصل مضمون جیساکہ میں بتاچکاہوں یہ تھا کہ کیا خدا تعالیٰ کو کسی الہا م بھیجنے کی ضرورت ہے؟ مشرک لوگ اپنے معبودوں کی نسبت یہ ظاہر کرتے تھے کہ ان کے معبود اس لئے الہام نازل نہیں کرتے کہ یہ ان کی شان کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہیں بلکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔نہ انہوں نے کوئی دنیو ی نعمت انسان کو دی ہے نہ دینی نعمت دینے کی توفیق ہے۔پھر تم کس طرح سمجھتے ہوکہ خدا تعالیٰ بھی انہی کی طرح ہوجائے۔حالانکہ اس میں توالہام بھیجنے کی طاقت ہے۔پس جس طرح اس نے دنیوی نعمتیں دی ہیں وہ روحانی نعمتیں بھی دیتاہے۔تم چاہتے ہوکہ وہ بھی تمہارے خیالی معبودوں کی طرح بے بس ہو کر بیٹھ جائے مگر وہ تو زندہ خدااورطاقتو رہے۔اوراس نے ہزاروں سامان دنیوی ترقی کے پیداکئے ہیں۔پس وہ تمہارے معبودوں کی طرح روحانی ترقی کے طریق بتانے میں کیوں کوتاہی کرے۔تمہارے معبودوں کا ایسانہ کرنا ان کی علّو شان کی وجہ سے نہیں بلکہ معذوری کے سبب سے ہے اورخدا تعالیٰ معذورنہیں۔اس لئے وہ کلام بھیجتا رہا ہے اوربھیجتارہے گا۔چنانچہ اگلی آیت بھی انہی معنوں کی تصدیق کرتی ہے۔وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ اوراگر تم اللہ( تعالیٰ )کے احسان شمار کرنے لگو۔تو(کبھی )تم ان کا احاطہ نہ کرسکو گے۔اللہ( تعالیٰ)یقیناً بہت (ہی) رَّحِيْمٌ۰۰۱۹ بخشنے والا (اور)باربار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔دنیاوی نعمتوں کے ذکر سے روحانی نعمتوں کی طرف اشارہ یعنی اللہ تعالیٰ کی