تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 544
کی کریں گے۔لیکن کوئی صورت بھی ا س جنگ سے محفوظ رہنے کی نہ پیداہوسکے گی۔ظَنُّوْا بمعنی یقین اس آیت میں ظنُّوْا کالفظ استعمال ہواہے۔ا س کے معنی یقین کے ہیں خیال یاشک کے نہیں۔ظنّ کا لفظ عربی میں اضداد میں سے ہے۔یعنی اس کے معنی گما ن کے بھی ہوتے ہیں اوریقین کے بھی ہیں۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ اورہم نے اس قرآن میں یقیناً ہرایک(ضروری)بات کو مختلف پیرائیوں میں بیان کیا ہے اور(ایساکیوں نہ کرتے كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا۰۰۵۵ کہ)انسان سب سے بڑھ کر بحث کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔الجدل۔اَلْجَدَلُ شِدَّۃُ الْخُصُوْمَۃِ سختی سے جھگڑنا (اقرب) تفسیر۔اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا کے دومعنی ہیں (۱)اَکْثَرَ شَیْءٍ یَتَأَتّٰی مِنْہُ الْجَدَ لُ یعنی سمجھانے کی جوتدبیر بھی کی جائے اس کے نتیجہ میں اس کی طرف سے جھگڑے کاپہلو ہی پیداکرلیا جاتاہے۔اطمینان حاصل کرنے کی وہ کوشش نہیں کرتا۔(۲) جَدَلُ الْاِنْسَانِ اَکْثَرُ مِنْ کُلِّ مَجَادِلٍ(روح المعانی زیر آیت ھذا)۔یعنی انسان سب مخلوق کی نسبت زیادہ جھگڑا کرتاہے مطلب یہ کہ اسے توہم نے عقل اس لئے دی تھی۔کہ روحانی ترقیات کرے۔اور خدا تعالیٰ کاعرفان حاصل کرے۔مگر وہ اس قوت کوجواسے دوسرے حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ایک بڑے امتیاز کاذریعہ بنالیتا ہے اوربجائے اس کے کہ اس کے ذریعہ سے دوسرے حیوانوں سے افضل بنے۔وہ ان سے بھی ادنیٰ حالت میں چلاجاتاہے۔اس آیت میں الناس تما م انسانوں کے متعلق ہے۔اورالانسان ان انسانوں کے متعلق جن کااوپر ذکرآچکا ہے اورمطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں تمام مسائل کو اچھی طرح سے اورمختلف پیرائوں میں بیان کیا ہے کہ بنی نوع انسان اس سے فائدہ اٹھائیں۔مگروہ قسم انسانوں کی جن کا ذکر اوپر گذراہے۔اسے جھگڑنے کاذریعہ بنالیتی ہے۔اوران ہی تفصیلات کو جو ان کے فائدہ کے لئے ہیں۔اعتراض کاموجب سمجھ لیتی ہے۔اس میں اس طر ف اشارہ ہے کہ مسیحی لوگ شریعت کی تفصیلات کو لعنت قرار دے کر ان سے آزاد ہوناچاہتے ہیں۔حالانکہ وہ تفصیلات انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے بیان کی گئی ہیں۔