تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 543

کاذریعہ خیا ل کرتے ہیں۔کبھی حضرت مسیح کوپکار یںگے کبھی ان کی والدہ کو۔لیکن ان میں سے کوئی ان کی دعانہ سنے گا۔موبق کے مختلف معنی وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا۔موبق کے معنی علاوہ اورمعنوں کے پرد ہ اورروک کے بھی ہوتے ہیں۔اورہلاکت کے بھی ہیں۔پردہ کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے۔کہ ان جنگوں میں وہ لوگ ایک دوسرے کاپوراپورابائیکاٹ کریں گے اورہلاکت کے معنوں کے لحاظ سے یہ معنی ہو ں گے کہ ایک دوسرے کوہلاک کریں گے اوراگربَیْنَھُمْ کی ضمیر معبودان باطلہ اورپرستش کرنے والوں کی طرف پھیر ی جائے۔تواس میں پہلے مضمون کی تاکید سمجھی جائے گی۔یعنی ایسے پردے درمیان میں آجائیں گے کہ ان کی کوئی آواز نہ سنی جائے گی۔یایہ کہ ان معبودان کی ارواح ہی ان کے خلاف دعائوں میں لگ جائیں گی۔وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ اورمجرم ا س آگ کودیکھیں گے اورسمجھ جائیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔اوروہ اس سے (پیچھے )ہٹنے کی يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًاؒ۰۰۵۴ کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔حلّ لُغَات۔مُوَاقِعُوْھَا۔وَاقَعَ سے اسم فاعل مُوَاقِعٌ آتاہے۔اورمُوَاقِعُوْنَ اس کی جمع ہے۔وَقَعَ(وُقُوْعًا)کے معنی ہیں سَقَطَ گرگیا۔وَقَعَ فِی الشَّرَکِ جال میں پھنس گیا (اقرب)پس مُوَاقِعُوْھَا کے معنی ہو ں گے اس میں پڑنے والے ہیں۔مَصْرفًا: مَصْرِفًایہ صَرَفَ سے اسم ظرف ہے صَرَفَہُ کے معنی ہیں رَدَّہُ عَنْ وَجْھِہِ اس کو اس کے قصد سے پھیر دیا (اقرب)پس مَصْرِفٌ کے معنی ہوں گے پھرنے کی جگہ۔تفسیر۔نار کے معنی جنگ کے یعنی اس وقت انہیں ہلاکت نظر آئے گی نار کے معنی جنگ کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں آتاہے كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ (المائدۃ:۶۵)یعنی جب بھی یہود جنگ کی آگ بھڑکائیں گے اللہ تعالیٰ اسے بجھادے گا۔ان معنوں کے روسے یہ مطلب ہو گاکہ جنگ کاخطرہ پیدا ہوجائےگا۔اورانہیں یقین ہوجائے گا۔کہ اب ا س جنگ سے چھٹکارانہیں۔اوربہتیری تدبیریں اس جنگ کو روکنے