تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 528

تفسیر۔یہ تمثیلی زبان میں مسلمانوں کی طرف سے جواب دیاہے۔یعنی اس مثال میں ایک اوربھی شخص تھا۔اس نے اس تکبر کرنے والے کونصیحت کی۔اورکہا کہ کیا تم خدا تعالیٰ کاانکار کرتے ہو۔جس نے تم کوپیدا کیا۔پھر ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر کمال تک پہونچا دیا۔یعنی تمہاری حالت عملاً اللہ تعالیٰ کے انکار کے متراد ف ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ پر حقیقی ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسے خیالات نہیں رکھ سکتا جیسے کہ تمہارے ہیں۔قرآن کریم کایہ عام طریق ہے کہ جب کسی کو یہ کہتاہے۔کہ اپنی ترقی پر غرورنہ کر تواس کی ابتدائی حالت کی طرف توجہ دلاتاہے۔جس طرح مسلمانوں کوکہا ہے کہ تم مایوس نہ ہو۔یہ جواس وقت کی ترقی یافتہ قومیں ہیں یہ بھی پہلے کمزورتھیں۔اب عیسائیوں کو فرمایا۔کہ تم یہ خیال نہ کرو۔کہ مسلمان کمزورہیں۔تم اپنی پہلی حالت کو دیکھو کہ وہ کس قدر کمزور تھی۔اور جسمانی پیدائش بھی انسان کی مٹی اورپھر نطفہ سے ہی ہوتی ہے۔اس تمثیل میں دونوں اشخاص کی گفتگوکے ساتھ یہ فرمایا ہے کہ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗ جس سے اس طرف اشارہ کیا ہے۔کہ ان دونوں قوموں میں مباحثات ہوں گے۔اورمباحثات کے دوران میں مسیحی لوگ مسلمانوں کی کمزور ی اوراپنی قوت کو اپنے سچاہونے کی دلیل قراردیا کریں گے۔لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّيْۤ اَحَدًا۰۰۳۹ (تمہاراتویہ حال ہے )لیکن (میں تویہ کہتا ہوں کہ)حق تویہ ہے کہ اللہ (تعالیٰ)ہی میرارب ہے اورمیں کسی کو (بھی ) اپنے رب کاشریک نہیں بناتا۔تفسیر۔یعنی میراسہارااوراطمینان اپنی تدبیر پر نہیں مجھے توجوکچھ دے گا خدا تعالیٰ ہی دے گا۔ہمارے پاس توکچھ بھی نہیں ہے۔اورہمیں اسی نہ ہونے پر فخر ہے کہ تازہ بتازہ خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھتے رہتے ہیں۔وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّيْۤ اَحَدًا میں کیالطیف بات بیان فرمائی ہےکہ خدا تعالیٰ نے تم کودیاہے۔اورپھر تم اس کے ساتھ شریک ٹھیراتے ہو۔لیکن خداتعالی نے مجھے دنیاکامال نہیں دیا۔پھر بھی میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ٹھہراتا۔یعنی شبہ تومجھے ہوسکتاتھا۔کہ شائددوخداہوں۔کہ تمہارے خدا نے تم سے حسن سلوک کیا۔اور میرے خدا نے نہ کیا۔مگر میں توغربت میں بھی ایک ہی خدا کا ماننے والاہوں۔