تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 527

تفسیر۔اس میں اشارہ کیا ہے کہ اس قوم میں دوخیالات کے لوگ ہوں گے ایک تووہ جو قیامت کے قائل نہ ہوںگے۔سب کچھ اسی دنیا کو سمجھیں گے۔اوردوسراگروہ قیامت کاقائل ہوگا۔مگراس کایہ خیال ہوگا۔کہ اگلے جہان کے انعامات بھی انہی کے لئے مقرر ہیں۔چنانچہ یہی حال مسیحیوں کاہے۔کچھ ان میں سے اس امر کے قائل ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔بلکہ قومی ارتقاء کے معنی ہی جنت کے ہیں اوریہ مسیحیوں کومل گئی ہے۔اورمل جائے گی اور بعض بعث بعد الموت کے تو قائل ہیں۔لیکن ان کا یہ خیال ہے کہ چونکہ مسیح نے ہمار ے گناہ اٹھالیئے ہیں اوردوسروں کے گنا ہ اٹھانے والا کوئی نہیں۔اس لئے ہم تونجات پا جائیں گے دوسرے سب لوگ دوز خ میں جائیںگے۔قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ اس کے ساتھی نے اس سے سوال وجواب کرتے ہوئے کہا (کہ )کیاتونے اس (ہستی) کاانکار کردیاہے جس نے مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ۰۰۳۸ تجھے (اوّلاً)مٹی سے (اور)پھر نطفہ سے پیدا کیا۔(اور)پھر اس نے تجھے پوراآدمی بنایا۔حلّ لُغَات۔نطفۃ نُطْفَۃٌکے معنی کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر ۵۔سَوَّاکَ رَجُلًا سَوَّی الشَّیْءَ کے معنی ہیں جَعَلَہٗ سَوِّیًا کسی چیز کوٹھیک اورمکمل بنادیا (اقرب) پس سَوّٰىكَ رَجُلًاکے معنی ہوں گے تجھے پورامکمل آدمی بنادیا۔سَوَّی الشَّیْءَ کے معنی ہیں جَعَلَہٗ سَوِیًّا اس کو سویّ یعنی بےعیب وبے نقص بنادیا۔غُلَامٌ سَوِیٌّ:اَیْ لَادَاءَ بِہٖ وَلَا عَیْبَ۔جب یہ لفظ انسان کے لئے بولاجائے۔تواس کے معنے ہوتے ہیں کہ جسمانی طورپر بھی اس میں کوئی نقص نہیں ہے اوراخلاقی لحاظ سے بھی اس میں نقص نہیں ہے۔چنانچہ غُلَامٌ سَوِیٌّ ٌّ ایسے لڑکے پر بولتے ہیں جس میں اخلاقی اور جسمانی کوئی نقص اورعیب نہ ہو۔وَمِنْہُ رَزَقَکَ اللہُ ولدًاسویًّا۔اورانہی معنوں میں یہ فقرہ بطور دعا کے کہاجاتاہے۔کہ تمہیں اللہ تعالیٰ بے عیب لڑکا عطا فرماوے(اقرب)