تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 503
السِّرِّکے معنے ہوتے ہیں اس کوراز معلوم ہوگیا )یایہ کہ اگرجھگڑاہوگیا اورقدم جمانے سے پہلے ان سے لڑائی ہوگئی اور تم مغلوب ہوگئے تووہ تم کو اپنے ملکوں سے نکال دیں گے۔(رجم کے معنے دھتکار دینے کے بھی ہوتے ہیں) (اقرب)یااگرنہ نکالیں توتم کو مجبور کریں گے کہ ان کے مذاہب میں داخل ہوجائو اوراگر ایساہوایعنی تم کو انہوں نے ملک سے نکال دیا۔یایہ کہ تم کواپنے مذاہب میں داخل کر دیا۔توتمہارازورہمیشہ کے لئے ٹوٹ جائے گا اورپھر کبھی ترقی نہ کرسکو گے۔چنانچہ دیکھ لوکہ یوروپین قومیں سیاسی اغراض کی وجہ سے ہمیشہ عیسائی مذہب کی مدد کرتی ہیں اور دوسری اقوام کے خیالات اپنے اند رپھیلنے سے روکنے کے لئے ہر قسم کی تدابیراختیار کرتی رہتی ہیں۔وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو )ان (کے حالات) سے آگاہ کیا ہے تاانہیں معلوم ہو کہ اللہ(تعالیٰ)کاوعدہ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا١ۗۚ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ پوراہوکر رہنے والا ہےاور(یہ بھی )کہ اس (موعودہ)گھڑی (کے آنے)میں کچھ بھی شک نہیں (اوراس وقت کو بھی اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ یاد کرو)جب و ہ اپنے کا م کے متعلق آپس میں گفتگوکرنے لگے اورانہوں نے (ایک دوسرے سے)کہا (کہ)تم ان قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ (کے رہنے کے مقام )پرکوئی عمارت بنائو۔ان کارب ان( کے حال)کوسب سے بہترجانتاتھا۔(آخر)جنہوں مَّسْجِدًا۰۰۲۲ نے اپنے قول میں غلبہ حاصل کرلیا انہوں نے کہا(کہ)ہم(تو)ان (کے رہنے کے مقام )پر مسجد (ہی )بنائیں گے حلّ لُغَات۔اَعْثَرْنَا اَعْثَرْنَا اَعْثَرَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اورأَعْثَرَ فُلَانًا عَلَی السِّرِّوَغَیْرِہِ کے معنے ہیں : اَطْلَعہٗ۔اس کو بھیدوں پر مطلع کیا۔اَعْثَرَ فُلَانًا عَلٰی اَصْحَابِہِ : دَلَّہٗ عَلَیْہِم۔کسی کو اپنے دوستوںکے متعلق آگاہ کیا۔اَعْثَرَبِہِ عِنْدَالسُّلْطَانِ :قَدَحَ فِیْہِ وَ طَلَبَ تَوْرِیَطَہُ وَاَنْ یَقَعَ فِی عَاثُوْرٍ۔بادشاہ کے ہاں اس پر