تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 502

اوراستعارۃً رجم کالفظ خیالی اورغیر یقینی بات کے کرنے پر بھی بولاجاتاہے۔وَالتَّوَھُّمِ وَلِلشَّتْمِ وَالطَّرْدِ۔نیز یہ لفظ وہم سے بات کرنے۔گالی دینے اوردھتکارنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔اور اَلشَّیْطَانُ الرَّجِیْمُ کے معنے ہیں اَلْمَطْرُوْدُعَنِ الْخَیْرَاتِ۔نیکیوں سے دور خوبیوں سے محروم و عاری۔وَعَنْ مَنازِلِ الْمَلَأِ الْاَعْلیٰ فرشتوں کے مقامات سے دورکیاہوا(مفردات)اورمجمع البحارمیںہے وَرُجُوْمًا لِلشَّیَاطِیْنِ وَعَلَامَاتٍ ھُوَجَمْعُ رَجْمٍ مَصْدَرٌ سُمِّیَ بِہٖ۔رجم کالفظ مصدر ہے جو اسم کے طور پر استعمال ہواہے۔اور رُجُوْمٌ اس کی جمع ہے۔وَیَجُوْزُکَوْنُہُ مَصْدرًا لَاجَمْعًا اوریہ بھی ہو سکتاہے۔کہ رجوم مصدرہونہ کہ جمع۔ومَعْنَاہُ اَن الشَّھَبَ الَّتِیْ تَنْقَضُّ مُنْفَصِلَۃً مِنْ نَارِ الْکَوَاکِبِ وَنُوْرِھَا لَااَنَّھُمْ یُرْجَمُوْنَ بِاَنْفُسِ الْکَواکِبِ لِاَ نَّہَا ثَابِتَۃٌ لَاتَزُوْلُ کَقَبَسٍ تُؤْخَذُ مِنْ نارٍ۔یعنی وہ شہب جو ستاروں کی آگ سے علیحدہ ہوکر ٹوٹتے ہیں۔وہ خود ستارے نہیں ہوتے۔بلکہ ستاروں سے روشنی گرتی ہے کیونکہ ستارے اپنی جگہ پر قائم ہیں اورشہب کاگرنا اسی طرح ہوتاہے جیسے ایک چنگاری آگ سے لی جاتی ہے۔وَقِیْلَ اَرَادَ بِالرُّجُوْمِ الظُّنُوْنُ الَّتِیْ تُحْزَرُوَمِنْہُ يَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَيْبِ۔اوربعض محققین نے یہ کہاہے کہ رُجُوْمٌ سے مراد وہ خیالات ہیں جو اپنے قیاس سے بغیر دلیل کے انسان بنالیتا ہے اورانہی معنوں میں قرآن میں لفظ رَجْمًۢا بِالْغَيْبِاستعمال ہوا ہے۔یعنی وہ غیب کے متعلق صرف اندازے لگاتے ہیں۔الملّۃ اَلْمِلَّۃُ اس کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر ۱۴۔اَلْمِلَّۃُ: اَلشَّرِیْعَۃُ اَوِ الدِّیْنُ۔شریعت اور دین کو ملت کہتے ہیں۔وَقِیْلَ الْمِلَّۃُ وَالطَّرِیْقَۃُ سَوَاءٌ۔بعض کہتے ہیں کہ ملت اور طریقہ ہم معنے لفظ ہیں۔وَھِیَ اِسْمٌ مِنْ اَمْلَیْتُ الْکِتٰبَ ثُمَّ نُقِلَتْ اِلَی أُصُوْلِ الشَّرَائِعِ بِاِعْتِبَارِ اَنَّہَا یُمْلِیْہَا النَّبِیُّ اور ملت اسم ہے جو اَمْلَیْتُ الْکِتَابَ کے محاورہ سے ماخوذ ہے پھر وہ شریعت کے اصول کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔کیونکہ شریعت کے اصول نبی لکھاتا ہے۔وَقَدْ تُطْلَقُ عَلَی الْبَاطِلِ کَالْکُفْرِ مِلَّةٌ وَاحِدَۃٌ اور کبھی یہ لفظ جھوٹے مذہبوں پر بھی بولا جاتا ہے۔جیسے اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ کے محاورہ سے ظاہر ہے۔وَلَاتُضَافُ اِلَی اللہ ِوَلَا اِلٰی اُحَادِ الْاُمَّۃِ۔اور یہ اللہ کی طرف منسوب نہیں ہوتا۔اور نہ امت کے کسی فرد کی طرف۔یعنی دِیْنُ اللہِ تو کہہ سکتے ہیں مگر مِلَّۃُ اللہِ نہیں کہہ سکتے۔اسی طرح قوم کی ملت کہیں گے زید یا بکر کی ملت کا لفظ نہیں بولیں گے۔(اقرب) تفسیر۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر ان اقوام کو جن کی طرف تم وفد بھیج رہے ہو تمہاراعلم ہوگیا (ظَھَرَ عَلٰی