تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 45
کہ وہ اپنی ماں کے پیچھے چل سکے۔(اقرب) پس لَا يَمْلِكُوْنَ کے معنے ہوں گے وہ قادر نہیں ہوسکتے۔وہ طاقت نہیں رکھ سکتے۔اَلْوَاحِدُ بِمَعْنَی الْاَحَدِ اَیْ اَلْمُنْفَرِدُ الَّذِیْ لَانَظِیْرَ لَہٗ اَوْلَیْسَ مَعَہٗ غَیْرُہٗ۔ایسا یکتا کہ جس کا کوئی نظیر نہ ہو یا اس کا کوئی شریک نہ ہو۔اور انہی معنوں میں یہ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔(اقرب) قَھَّارٌ۔قَھَرَہٗ۔قَھْرًا۔غَلَبَہٗ۔قَھَرَ کے معنے ہیں۔کسی پر غالب آیا۔(اقرب) اور اَلْقَہَّارُ مبالغہ کا صیغہ ہے اس کے معنے ہوں گے۔بہت غالب۔تفسیر۔جتنے لوگوں کو دنیا نے خدا بنایا ان کی زندگی دکھ میں گزری یہ عجیب خدا کی قدرت ہے کہ جتنے لوگوں کو دنیا نے خدا بنایا ان کی زندگی دکھ اور تکلیف میں ہی گزری ہے۔حضرت مسیح کو ملک چھوڑنا پڑا اور مختلف تکالیف کا سامنا ہوا۔حضرت حسینؓ تو شہید ہی کر دیئے گئے۔رام چندر جی بھی مصائب میں مبتلا رہے۔لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ میں بتایا ہے کہ جب وہ اپنی جانوں کی بھی حفاظت نہ کرسکے تو تم کو کیا نفع پہنچائیں گے۔هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتے ہیں۔یعنی تم لوگوں کو اپنی کثرت پر ناز ہے مگر یہ تو سوچو کہ کیا ہمیشہ کثرت مفید ہوا کرتی ہے۔بہت سے اندھوں کا اجتماع قوت کا موجب ہوتا ہے یا ضعف کا۔ایک آنکھوں والا ہزاروں اندھوں پر غالب ہوتا ہے۔ایسا ہی اس نبی اور اس کے متبعین کو خدا سے علم ملتا ہے اور تمہارے منصوبوں اور تدبیروں سے خدائی وحی اسےآگاہ کر دیتی ہے۔پس اس کی مثال بینا کی ہے مگر تمہیں کچھ پتہ نہیں کہ اس کی طرف سے کیا کیا تدابیر کی جارہی ہیں۔کیونکہ اس کی تائید میں اکثر کوششیں خدا تعالیٰ کی طرف سے قانونِ قدرت کے مخفی اثرات کے ذریعہ سے ہورہی ہیں۔جن سے تم بالکل ناواقف ہو۔پھر سوچو تو سہی کہ تم اس کا اور اس کے ساتھیوں کا مقابلہ کیونکر کرسکتے ہو؟ یہ تھوڑے ہیں تو کیا ہوا ہیں تو آنکھوں والے۔هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ۔اسی طرح فرمایا ظلمات اور نور کا بھی کوئی مقابلہ نہیں۔تھوڑی سی روشنی سارے کمرے کا اندھیرا پاش پاش کردیتی ہے۔ظلمات عدم نور کا نام ہے اور نور وجود کا۔اور وجود کے سامنے عدم کی حیثیت ہی کیا ہے۔یعنی تمہارے پاس الٰہی تعلیم نہیں۔اس کے پاس ہے۔پس تمہارا اور اس کا کیا مقابلہ۔اس کی تعلیم کی بنیاد تو حقائق پر ہے اور تمہاری تعلیم کی بنیاد صرف جہالت اور انکار پر۔اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ۔یہ بات مشرکین کے سامنے بطور اعتراض پیش کی گئی ہے یعنی تم باوجود مشرک ہونے کے بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے کہ معبودانِ باطلہ نے کوئی خلق کی ہے اور وہ خدا کی خلق سے مشابہ ہے۔چنانچہ مکہ کے مشرکین اس بات کی جرأت نہ کرسکے۔گو بعض اور ممالک کے مشرک اپنے