تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 472
ہوامکان۔اس کی جمع کُھُوْ فٌ آتی ہے۔غار اور کہف میں یہ فرق ہے کہ کہف وسیع ہوتی ہے اورغار تنگ۔اَلْکَھْفُ اَیْضًا الْوَزَرُ۔حفاظت کی جگہ۔اَلْمَلْجَا ءُ۔پناہ کی جگہ (اقرب) رقیم رَقِیْمٌ رَقَمَ(یَرْقُمُ رَقْمًا)کے معنے ہیں کَتَبَہٗ۔اس کو لکھا۔رَقَمَ الْکِتَا بَ۔اَعْجَمَہُ وَبَیَّنَہٗ۔کسی کتاب یا خط کے الفاظ کو واضح طور پر لکھا۔رَقَمَ الثَّوْبَ۔خَطَّطَہٗ وَاَعْلَمَہُ۔اس پر لکیریں ڈالیں اورشاندار کیا۔کسی چیز پر تصویر بنانا۔لکھنا۔نقش بنانا۔اَلرَّقِیْمُ۔الْکِتَابُ۔اَلْمَرْقُوْمُ۔لکھی ہوئی چیز۔اَصْحَابُ الرَّقِیْمِ کے معنے ہوں گے۔نقش یا تصویریں بنانے والے لوگ۔مفسرین نے لکھا ہے کہ پتھر یالوہے پر کھو دنے والے لوگ (تفسیر ابن جریر و اقرب)۔تواس لحاظ سے یہ معنی ہوں گے پتھروں پر یاکاغذوں پر لکھنے والے یا نقش ونگار کرنے والے یاتصویریں بنانے والے یاکھودنے والے۔رَقِیْمٌ بمعنے مَرْقُوْمٌ بھی ہوسکتا ہے اس لحاظ سے اصحاب الرقیم کے معنے ہوں گے جن کے پاس لکھی ہوئی چیز یں ہو ں۔یعنی کتابیں یا ساما ن جن پرنام لکھاہواہو یاکتبوں والے وغیر ہ وغیر ہ۔العَجَبُ اَلْعَجَبُ (۱)جب کوئی ایساامر پیش آئے کہ اس کے ماننے میں طبیعت کو انقباض اور انکار ہو۔تواس انکار کی حالت کو عجب کہتے ہیں (۲) پیش آمد ہ امر کے پسند کرنے کوبھی عجب کہتے ہیں (۳)اس حالت رعب کو بھی عجب کہتے ہیں جوانسان پر کسی چیز کو بہت ہی بڑا سمجھنے کے وقت طاری ہوتی ہے۔(اقرب)تفصیل کے لئے دیکو سورہ یونس آیت نمبر ۳۔اَلْعَجَبُ۔اِنْکَارُمَا یَرِدُ عَلَیْکَ یعنے جب کوئی ایسا امر پیش آئے کہ اس کے ماننے میں طبیعت کو انقباض اور انکار ہو تو اس حالت انکار کو عجب کہتے ہیں۔اِسْتِطْرَافُہُ۔پیش آمدہ امر کو پسند کرنے کو بھی عجب کہتے ہیں۔رَوْعَۃٌ تَعْتَرِی الْاِنْسَانَ عِنْدَ اِسْتِعْظَامِ الشَّیْءِ۔یعنی اس حالت رعب کو بھی عجب کہتے ہیں جو انسان پر کسی چیز کو بہت ہی بڑا سمجھنے کے وقت طاری ہوتی ہے۔وَمِنَ اللہِ : الرِّضَی اور جب اللہ کی طرف اس لفظ کو منسوب کیا جاوے تو اس کے معنی پسندیدگی کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔کیا لطیفہ ہے بلکہ رونے کا مقام ہے کہ خدا تعالیٰ توکہتاہے کہ اصحا ب کہف کو ئی عجوبہ چیز نہ تھے بلکہ اورآیتوں کی طرح یہ بھی ایک آیت ہی تھے۔مگر ہمار ے مسلمان اس کوایک عجوبہ بنارہے ہیں (اصحاب کہف کی تفصیل کے لئے دیکھو اگلی آیات)