تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 471
تفسیر۔فرمایاوہ دنیا کاسامان تو ایک عارضی چیز اورعارضی سامان ہے۔حقیقی نہیں۔صر ف قومی مقابلہ کاایک ذریعہ خدا تعالیٰ نے بنایاہے تابنی نوع انسان کی خدمت کرکے ثواب حاصل کریں۔لیکن مسیحی لوگ اس غرض کو پوری نہ کریں گے خداکے پیداکئے ہوئے سامانوں کی جستجوتوکریں گے لیکن ان کو حسن عمل کاذریعہ نہ بنائیں گے اورلڑائی جھگڑے کاذریعہ بنالیں گے۔پس چونکہ ہمار امقصد توان اشیاء کے پیداکرنے سے دنیا کوزینت دینا ہے چونکہ وہ مقصد ان کی تحقیقاتوں اورایجادوں سے پورانہ ہوگا۔ہم ان کے کام کومٹادیں گے غر ض اس جگہ سب دنیا کی تباہی مراد نہیں بلکہ ان کاموں کی تباہی مراد ہے جواللہ کابیٹابنانے والی قوم کرے گی۔اس آیت کے الفاظ میں نہایت لطیف طورپر ایک تمثیل کی طرف جواس سور ۃ میں آگے چل کربیان ہوئی ہے اشارہ فرمایاگیاہے اوروہ اشار ہ صَعِيْدًا جُرُزًاکے الفاظ میں ہے۔صعید کے معنے اس زمین کے ہوتے ہیں جس میں سے درخت وغیر ہ کٹ جائیں۔چنانچہ عرب کامحاورہ ہے صَارَتِ الْحَدِیْقَۃُ صَعِیْدًا باغ اُجڑ گیا اس کے درخت فناہوگئے۔اور جرز کے معنے بھی اس زمین کے ہوتے ہیں جس کی سبزی تباہ ہوگئی ہو آگے چل کرجہاں دوباغوں کی تمثیل دی گئی ہے (کہف ع ۵)وہاںبھی متکبر باغوںوالے کو اس کاناصح بھائی کہتاہے کہ تو تکبر نہ کر ایسانہ ہو کہ آسمانی عذاب نازل ہوکر تیرے باغوں کو صعیدًا زَلَـقًابنادے۔صَعِیْدًا کالفظ تووہی ہے جویہاں استعمال ہواہے۔جُرُزًاکی جگہ وہا ںزَلَقًا کالفظ رکھا گیا ہے اوراس کے معنے بھی یہی ہیں کہ جہاں کوئی کھیتی نہ ہو۔عرب کہتے ہیں کہ اَرْضٌ زَلَقٌ ایسی زمین جس پر کوئی کھیتی نہ ہو۔پس اس آیت سے اس طرف اشار ہ ہے کہ آگے جو تمثیل بیان کی گئی ہے مسیحی قوم بھی اس میں شامل ہے اوراللہ تعالیٰ ان کے لگائے ہوئے باغوں کوتباہ کردے گا۔اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِيْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ کیا توسمجھتا ہے کہ کہف اوررقیم والے (لوگ)ہمارے نشانوں میں سے کوئی اچنبھا (نشان )تھے اٰيٰتِنَا عَجَبًا۰۰۱۰ (جن کی نظیر پھرکبھی نہ پائی جاسکتی ہو )۔حلّ لغات۔الکھف۔اَلْکَھْفُ کَالْبَیْتِ الْمَنْقُوْرِ فی الْجَبَلِ۔گھر کی شکل پر پہاڑ میں کھود کر بنایا