تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 450

سُوْرَۃُ الْکَہْفِ مَکِّیَّةٌ سورہ کہف ۱؎ یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَۃُ وَاِحْدٰی عَشَرَ ۃَ اٰیَۃً وَاِثْنَا عَشَرَ رُکُوْعًا اوربسم اللہ سمیت اس کی ایک سو گیارہ آیتیں ہیں اوربارہ رکوع ہیں۔یہ سورۃ مکی ہے ۱؎ ابن عباسؓ اورابن زبیر کے نزدیک یہ سورۃ سب کی سب مکی ہے (درمنثور)تمام مفسرین کابھی اس امر پر اتفاق معلوم ہوتاہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت سے بھی معلوم ہوتاہے کہ نہ صرف مکی ہے بلکہ ابتدائی ایام کی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل ،کہف،اورمریم ابتدائی سورتو ں سے ہیں اور میرے پرانے مال میں سے ہیں (بخاری کتاب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل )۔یہ سورۃ یکدم نازل ہوئی بعض کے نزدیک یہ سورۃ ان سورتوںمیں سے ہے جو یکدم نازل ہوئی ہیں۔دیلمی نے انسؓ سے یہی روایت کی ہے کہ یہ سور ۃ یکدم نازل ہوئی تھی اورسترہزارفرشتہ ساتھ تھا اورا س کی خاص طورپر حفاظت کی گئی تھی(فردوس الاخبار از دیلمی حدیث نمبر ۷۰۷۰)۔سورۃ کے یکدم نازل ہونے اور اس کے ساتھ فرشتوں کے نزول کا مطلب ان روایات کایہ مطلب نہیں کہ بعض سورتوں کی حفاظت کم ہوئی ہے اوربعض کی زیادہ۔کیونکہ اگریہ تسلیم کیا جائے تویہ بھی مانناپڑے گاکہ بعض سورتوں کامحفو ظ ہونا زیادہ یقینی ہے اوربعض کاکم۔لیکن یہ امر بالبداہت غلط ہے پس جہاں جہاں حدیثوں میں آتاہے کہ فلاں سورۃ کی حفاظت کے لئے اتنے فرشتے اترے۔اس سے نزول کے وقت کی حفاظت مراد نہیں۔بلکہ نزول کے بعدکی حفاظت مراد ہوتی ہے۔اوروہ اس طرح کہ ہرسورۃ کسی خاص مضمون کے بارہ میں ہوتی ہے اوربعض دفعہ اس میں پیشگوئیاں ہوتی ہیں جن کے پوراہونے پر اس سورۃ کی سچائی کاانحصار ہوتاہے۔یہ پیشگوئیاں بعض دفعہ طبعی تغیرات کے متعلق ہوتی ہیں اوربعض دفعہ انسانی اعمال کے متعلق۔انسانی اعمال کے متعلق جوپیشگوئیاں ہوتی ہیں وہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ جن کے عذاب کی ان پیشگوئیوں میں خبرہو۔وہ اس عذاب کو ٹالنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور چونکہ پیشگوئیاں بالعموم غیر معمولی طورپر مخالف حالات میں کی جاتی ہیں۔اس لئے دنیوی سامانوں کے لحاظ سے ان کاپورا ہونا بظاہرناممکن یاغیراغلب نظر آتاہے اوراسی وقت ان کے پوراہونے کی کوئی صورت پیداہوسکتی ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی امدادکاانتظام کیا جائے۔پس جس سور ۃ میں اس قسم کی