تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 426
مددگار (ہی کیوں نہ)بن جائیں۔حل لغات۔ظھیر۔ظَھِیْرٌ ظَھَرَسے صفت مشبہ ہے۔اورظَھَرَ عَلَیَّ کے معنی ہیں۔اَعَانَـنِیْ اس نے میری مددکی۔ظَھَرَ فُلَانًا بِفُلَانٍ وَعَلَیْہِ :غَلَبَہُ۔اس پر غالب آیا۔ظَھَرَبِزَیْدٍ:أَعْلَی بِہٖ وَرَفَعَ مَرْتَبَتَہُ۔زیدکو ترقی دی اوراس کامرتبہ بلندکیا۔اَلظَّھِیْرُ الْمُعِیْنُ مدگار معاو ن(اقرب) تفسیر۔قرآن کی مثل لانےسے عجز دعویٰ کی سچائی کا ثبوت ہے اس آیت سے روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ جومعنی میں نے اوپر کی آیات کے کئے تھے وہی صحیح ہیں۔کیونکہ ا س میں آکر اسی دلیل کو جو میں نے اوپر دی تھی مکمل کیاگیاہے۔فرماتا ہے کہ تم کہتے ہوکہ بعض روحانی مشقوں سے ترقی کرکے انسان سابق ارواح سے روحانی تعلیمات حاصل کرسکتاہے۔اگر تمہارایہ دعویٰ سچا ہے تواے انسانو تم سب کے سب اکٹھے ہوجائو۔اوران مخفی ارواح کوبھی اپنی مدد کے لئے بلالو۔جن کی نسبت تمہاراخیال ہے کہ تم کو علوم آسمانی سے خبردار کرتی ہیں۔اورسب مل کرقرآن کی مثل کوئی کتاب پیش کردو۔اوراگر تم نے اس کی مثل پیش کردی۔تب توبے شک تمہارادعویٰ سچاہوگا۔ورنہ صاف ظاہر ہے کہ تم اس دعویٰ میں جھو ٹے ہو۔جب تم سب کے سب مل کر اور تمہاری ساری مخفی ہستیا ں مل کر بھی قرآن کی مثل نہیں لاسکتیں۔تویہ کہنا کہ محمد رسول اللہ نے بعض روحانی مشقوں سے ان علوم کوحاصل کرلیا ہے۔کتناجھوٹادعویٰ ہے۔اس آیت میں جن سے مراد ارواح ہیں الْجِنُّ سے ا س جگہ مراد وہ ارواح ہیں جن کی مدد سے علوم روحانی سیکھنے کا یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں۔چونکہ وہ ارواح بقول ان کے نظروں سے غائب ہیں۔ان کو جنات کے نام سے اس جگہ یاد کیاگیا ہے۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ٞ اورہم نے اس قرآن میں یقیناً ہرایک(ضروری)بات کومختلف پیرایوں سے بیان کیا ہے۔پھر(بھی)اکثر لوگوں فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا۰۰۹۰ نے (اس کے متعلق ) کفر (کی راہ اختیار کرنے)کے سواہر بات سے انکار کردیاہے تفسیر۔فرمایا یہ لوگ مثال لائیں گے کہاں سے۔ان کے دماغ محدود ہیں۔جس قسم کی یہ تربیت پائیں گے۔اسی قسم کی بات پیش کرسکیں گے اورباقی باتیں ان سے رہ جائیں گی۔لیکن اس قرآن کریم میں سیاسیات کے