تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 421

یہود کے فرقہ اسینیوں کے حالات بعض لوگوں کاخیال ہے کہ حضرت مسیح اسی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ایک پرانانسخہ کتاب کا جرمنی میں ملا ہے۔جس میں ایک اسینی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسیح ہمارے فرقہ کے ایک آدمی تھے۔اور مسیح کی زندگی کے حالات عجیب پیرایہ میں اس میں لکھے ہیں۔اوریہ بھی لکھا ہے کہ و ہ صلیب پر سے زندہ اترآئے تھے۔دیکھو THE CRUCIFIXION BY AN EYE WITNESS یہ کتاب میرے کتب خانہ میں موجود ہے۔اس فرقہ کی نسبت انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے۔کہ یہ لو گ روزے رکھتے۔اوربڑی پا ک زندگی بسرکرتے تھے۔اورغیب کی خبریں بتاتے تھے۔اورمعجز ے دکھاتے تھے۔چنانچہ فائلو philo ان کی نسبت لکھتاہے۔کہ غیر قوموں کے جادوگروں سے مرعوب نہ ہوناچاہیے۔ہمارے اند ر بھی ایسے لوگ موجود ہیں اورا س نے مثال کے طور پر اسینیوں کو پیش کیا ہے۔جوزیفس مشہور یہودی مصنف بھی ان کے ذکر میں لکھتاہے کہ وہ پیشگوئیاں کرتے تھے۔اورغیب کی خبریں بتاتے تھے ان کی نسبت لکھا ہے کہ عبادت کے وقت مراقبہ کرتے تھے۔تاان کی ارواح کاتعلق آسمانی باپ سے پیداہوجائے اوران کے لیڈر اسم اعظم کے جاننے کادعویٰ کرتے تھے جوبقول ان کے بیالیس حرفوں کاہے۔یہ لوگ عورتوں سے الگ رہنے کو پسند کرتے تھے۔تاکہ ’’مزید الہام ان پر نازل ہو‘‘۔(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Essenes) ایسامعلوم ہوتاہے کہ مدینہ کے یہود اسی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔عبد اللہ بن صیاد ارواح سے تعلق کی وجہ سے غیب کا دعویدار تھا کیونکہ حدیث میں آتاہے کہ مدینہ کے یہود میں سے ایک شخص عبداللہ بن صیاد پیشگوئیاں کیاکرتاتھا جب اس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی توآپ ا س کاامتحان کرنے کے لئے گئے۔اور چونکہ وہ غیب کے علم کادعویٰ کرتا تھا۔آپ نے اس سے پوچھا۔کہ میں نے اپنے ذہن میں ایک لفظ رکھا ہے۔تم بتائو کہ وہ کیاہے۔آپ نے سورہ دخان کی آیت فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ(الدخان:۱۱)ذہن میں رکھی تھی۔اس نے سوچ کرجواب دیا۔دُخْ۔دُخْ اورآگے خاموش ہوگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لَنْ تَعْدُ وَ قَدْرَکَ توجس حیثیت کاہے۔اس سے آگے نہ بڑھے گا۔یعنی تیراعلم دماغی ہے۔توالٰہی اخبار کونہیں بتاسکتا۔اس شخص کے متعلق صحابہ کوخیال تھا کہ یہ دجال ہے۔چنانچہ حضرت عمر ؓ نے اسے قتل کرنے کااراد ہ کیا۔مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ کو یہ کہہ کرمنع فرمایا۔کہ اگریہ دجال ہے توتم اس کومار نہیں سکتے۔اوراگریہ دجال نہیں تواس کامارناناجائزہے (مسلم کتاب الفتن باب ذکر ابن صیاد)۔بہرحال اس واقعہ سے معلو م ہوتاہے کہ مدینہ کے یہود میں اس قسم کے لوگ موجود تھے۔جوارواح سے تعلق رکھنے کے مدعی تھے۔اوریہ اس امر کاثبوت ہے کہ وہ اسینی فرقہ کے لوگوں سے تعلق رکھتے تھے۔