تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 342

طرف اشارہ کیا گیاہے کہ جب وہ اپنی بلوغت کو پہنچ جاوے اوراپنی اس عقل کو پہونچ جاوے کہ جس میں وہ اپنے مال کی حفاظت کرسکتا ہوتواس وقت اس کے مال کو یہ کہہ کر کہ ابھی چھوٹاہے دبانہیں چھوڑناچاہیے۔غرض حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ نے دونوں صورتوں سے جویتیم کونقصان پہنچانے والی ہیں اس کے رشتہ داروں اورحکومت کوروک دیا ہے ایسے بہت سے نظارے دنیا میں ملتے ہیں کہ رشتہ دار ایک مدت تک یتامیٰ کاکام کرنے کے بعد تھک کر کام چھوڑ بیٹھتے ہیں اوریتامیٰ کانقصان ہو جاتا ہے یاوہ جوان ہوجاتے ہیں لیکن ان کا حق ان کونہیں دیاجاتا۔ریاستوں میں ایسے نظارے بہت دیکھنے میں آتے ہیں کہ رئیس جوان ہو جاتا ہے مگر جوافسر ریاست کے انتظام کے لئے مقر ر ہوتے ہیں اپنے ذاتی اغراض کو پوراکرنے کے لئے انہیں نابالغ یا غیر عاقل ہی قرار دیتے جاتے ہیں۔اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ کا یتامیٰ کے ذکر سے تعلق وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ۔اپنے عہد کوپوراکر و۔بظاہر تویہ فقر ہ یتامیٰ کے ذکر میں بے جوڑ معلوم ہو تاہے۔کیونکہ یتیم کاعہد سے کوئی خاص تعلق نظرنہیں آتا۔لیکن حقیقت میں ایسانہیں کیونکہ(۱)عہد کے معنے ذمہ واری کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں۔فُلَانٌ وَلِیَ الْعَھْدَ۔یعنی حکومت کی ذمہ واری کاولی ہے ان معنوں کے روسے اس جملہ کے معنی ہوں گے۔کہ یتامیٰ کے متعلق اپنی ذمہ واری کو پورا کرو۔جب تک ان کے مال کے انتظام کی ضرورت ہے انتظام کرو۔اورجب ان کامال ان کے سپرد کرنے کا وقت آئے توان کامال انہیں دےدو۔دوسرے اس طرف بھی اشارہ کیا گیاہے کہ یتامیٰ کے اموال کی حفاظت کوئی احسان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کاحکم اوراسلامی نظام کاایک حصہ ہے۔اس لئے احسان سمجھ کراس کام کونہ کروبلکہ فرض سمجھ کر کرو۔(۲)چونکہ یتیم اپنے مال کی کمی بیشی کے متعلق کچھ دریافت نہیں کرسکتا اس لئے خدا تعالیٰ نے یتیم کے مال کو اپنے عہد میں شامل کرلیاہے تاکہ کوئی یہ سمجھ کر مال کو کھا نہ جاوے کہ اگر ہم کھاجائیں گے توکون پوچھے گا۔اس لئے فرمایا کہ اگر کوئی ایسا کرے گا توہم پوچھیں گے یہ ہماراعہد ہے۔(۳)یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یتیم کا ذکر کرکے ان لوگوں کا ذکر بھی ساتھ کردیاجویتامیٰ تونہیں ہوتے مگریتامیٰ سے مشابہ ہوتے ہیں۔مثلاً کمزوراقوا م جو اپنے آپ کو طاقتور اقوام کی حفاظت میں دےدیتی ہیں۔پس یتامیٰ کے ذکر کے ساتھ ان کے حقوق کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بعض اقوام بمنزلہ یتامیٰ ہوتی ہیں اوران کے حقوق تمہارے قبضہ میں آجاتے ہیں۔بیشک تمہارا فرض ہے کہ اس وقت تم ان کے حقوق کی نگہداشت کرو لیکن ہمیشہ کے لئے ان پرتصرف قائم نہ رکھو بلکہ جب ان میں اہلیت پیداہوجائے انہیں ان کے مال سپردکردو۔اگردنیا اس حکم پرعمل کرے تویہ قومی تنافر جو آج پیدا ہو رہا ہے یکدم دور ہوجائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض وقت ایک زبردست قوم