تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 334
کابہت بوجھ ڈال دینا۔یہ سب امورہیں جن سے اولاد پربرااثر پڑتا ہے۔اوریاتوبچے ضائع ہوجاتے ہیں یاان کی صحتیں کمزورہوجاتی ہیں۔لَا تَقْتُلُوْۤا کے الفاظ میں ان سب امو ر کی مناہی آجاتی ہے اوریہ غرض دوسرے الفاظ سے پوری نہ ہوسکتی تھی۔اس آیت کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں جوبعض صوفیاء کرتے ہیں۔کہ اولاد کی پیدائش کو صرف ا س خطرہ سے روکنا منع ہے کہ اگراولاد زیادہ ہوجائے گی توپھر کھائے گی کہاں سے۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اولاد کی پیدائش بند کرنا قتل اولاد کے حکم میں ہے۔اورقتل اولاد ہرحال میں منع ہے اوربراہے۔تومعنے یہ ہوئے کہ املاق کی وجہ سے قتل اولاد (یعنی اس کی پیدائش کو روکنا )منعہے۔البتہ بعض اورصورتوں میں جائز بھی ہوسکتا ہے مثلاً عورت بیمار ہو اس وقت جائز ہوگاکہ اولادپیداکرنابند کردے۔کیونکہ جس چیز کی وجہ سے قتل اولاد کوروکا گیا ہے۔وہ غیر محسوس ہے ایسی وجہ کی بناء پر اولاد کی پیدائش کوروکنا ناجائز ہے لیکن کسی محسوس اورمشاہد نقصا ن کی وجہ سے اولاد کی پیدائش کو روکنا منع نہیں۔علاوہ پیدائش میں روک ڈالنے کے جو بچہ بن چکاہو بعض حالات میں اس کامارنابھی جائز ہوتاہے مثلاً کسی حاملہ عورت کے متعلق زچگی کے وقت یہ شبہ ہو کہ اگر بچہ کو طبعی طور پر پیدا ہونے دیاگیا تووالد ہ فوت ہوجائے گی اس صورت میں بچہ کوضائع کردیناجائزہے کیونکہ بچہ کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ وہ مردہ پیدا ہوگایا زندہ۔یازندہ رہے گایا نہیں۔مگر ماں سوسائٹی کا ایک مفید وجود ہے اس لئے وہمی نقصان سے حقیقی نقصا ن کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اوربچہ کو تلف کردیاجائے گا۔لَا تَقْتُلُوْۤا کے بعد خَشْيَةَ اِمْلَاقٍلگانے کی وجہ غرض لَا تَقْتُلُوْۤا کے الفاظ استعمال کرنے کے بعد خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ کی شر ط لگاکر قرآن کریم نے اولاد کی تربیت ،اس کی پرورش ،ماں کی پرورش اوراس کی زندگی کی قیمت کے متعلق ایک وسیع مضمون بیان کیا ہے اورایسے مختصرالفاظ میں کہ اس کی مثال دوسری کتاب میں نہیں مل سکتی بلکہ حق یہ ہے کہ یہ مضمون ایسااچھوتاہے کہ دوسری کسی مذہبی کتاب نے اسے چھواتک نہیں۔خِطْاً کے معنے اس آیت میں جو خِطْأً کا لفظ استعمال کیا گیاہے گواس کا مادہ اورخَطَأً کاماد ہ ایک ہی ہے لیکن خِطْأً جو خ کی زیر کے ساتھ ہے اس کے معنوں اورخَطَأً جس میں خ پر زبر ہے اس کے معنوں میں فرق کیا جاتا ہے۔خِطْأًکے معنے اَلْاِثْمُ مَاتُعَمِّدَ مِنْہُ کے ہیں۔اور خَطَأً کے معنے مَالَمْ یَتَعَمَّدْ مِنْہُ اَوْ تَعَمَّدَ کے ہیں۔یعنی اگر خ پر فتح یعنی زبر ہوتو دیدہ دانستہ گناہ اورنادانستہ قصور دونوں معنوں میں مستعمل ہوگا۔اوراگر خ کے نیچے کسرہ